مہرخبررساں ايجنسي نے رائٹرز كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ امريكي صدر جارج بش نے اپنے مكارانہ اظہارات ميں تاكيد كي ہے كہ ايراني حكومت ايٹمي ٹيكنالوجي حاصل كرنے ميں بہت آگے چلي گئي ہے اور اس سے دنيا كو خطرہ لاحق ہوگيا ہے اور عالمي برادري كو چاہيے كہ وہ ايران كو ايٹمي ٹيكنالوجي حاصل كرنے سے روك دے بش نے كہا كہ اس كے بعد امريكہ بھي دنيا كو ايران كے ايٹمي پروگرام كے خلاف متحد كرنے كي كوشش كرے گا چار سال پہلے بھي اپنےسالانہ بيان ميں امريكي صدر نے ايران كو شرارت كا محور قرار ديا تھا اور كہا تھا كہ ايراني رہنماؤں نے ايراني قوم كو يرغمال بنا ركھا ہے امريكي صدر نے امريكي عوام كي بڑہتي ہوئي مشكلات اورامريكي حكومت سے امريكي عوام كي ناراضگي كي طرف كوئي اشارہ نہيں كيا اس نے امريكہ كي ان خواتين كے بارے ميں بھي كچھ نہيں كہا جنھوں نے بش كو دہشت گرد اور جنگي مجرم قرارديا ہے اور بين الاقوامي عدالت ميں بش پر اس كے جنگي جرائم كي وجہ سے مقدمہ چلانے كا مطالبہ كيا ہے بش نے اسرائيل كے پاس 200 سے ليكر 400 تك ايٹمي ہتھياروں كي موجودگي كے بارے ميں بھي كچھ نہيں كيا كيونكہ وہ تو خود اسرائيل كا حامي ہے اسرائيل دنيا كے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے اس كي طرف بھي بش نے كوئي اشارہ نہيں كيا جب كہ ايران كا ايٹمي پروگرام پر امن مقاصد كے لئے ہے جس كي تائيد بين الاقوامي ايٹمي ايجنسي كے ماہرين نے بارہا كي ہے ايران كا ايٹمي پروگرام بين الاقوامي ايٹمي ايجنسي كے انسپكٹروں كي نگراني ميں چل رہا ہے جب كہ اسرائيل كے ايٹمي پروگرام پر بين الاقوامي ايٹمي ايجنسي كا كوئي ناظر موجود نہيں ہے
امريكي صدر بش نے كہا ہے كہ
ايران كو پر امن ايٹمي ٹيكنالوجي حاصل نہيں كرنے دوں گا
امريكي صدر نے اپني سالانہ تقرير ميں ايران پر بے بنياد الزامات كي تكرار كرتے ہوئے كہا ہے كہ امريكہ اور يورپ ملكر ايران كو پر امن ايٹمي ٹيكنالوجي حاصل كرنے سے روك ديں گے
News ID 285796
آپ کا تبصرہ