مہر خبررساں ايجنسي نے فرانسيسي خبررساں ايجنسي كےحوالے سے نقل كيا ہے كہ ملك كے جنوبي شہر تولوس ميں كئي نوجوانوں اور پوليس كے درميان جھڑپوں كے علاوہ كئي ديگر علاقوں سے بھي ايسے واقعات كي اطلاعات ملي ہيں
پوليس كےمطابق منگل كي رات سے تشدد كے واقعات ميں كمي كا جو رجحان سامنے آيا تھا وہ اب بھي جاري ہے پيرس كے نواح ميں جہاں سے تشدد كا آغاز ہوا تھا اب قدرے امن ہے
فرانس كے وزير داخلہ نكولس ساركوزي نے تشدد كے واقعات ميں ملوث تمام غير ملكيوں كو ملك بدر كرنے كا حكم ديا ہے انہوں نے پارليمينٹ كو بتايا كہ ان واقعات ميں 120 غير ملكي ملوث پائے گئے ہيں اور انہيں بنا كسي تاخير كے ملك سے نكال ديا جائے گا تشدد كے ان واقعات كا آغاز پيرس كے نواح ميں ايك غريب علاقے ميں دو نوجوانوں كي حادثاتي ہلاكت كے بعد ہوا جن كا پوليس پيچھا كررہي تھي
فرانس كے جن تيس قصبوں اور شہروں ميں كرفيو لگايا گيا ہے وہاں سولہ برس سے كم عمر كا كوئي بھي نوجوان كسي بالغ ساتھي كے بغير رات دس بجے سے لے كر صبح چھ بجے تك باہر نہيں نكل سكتا اور نہ ہي پٹرول خريد سكتا ہے اطلاعات كے مطابق فرانسيسي تشددكي لہر اب دوسرے يورپي ممالك كا رخ كررہي ہے بلجيم ، يونان اور جرمني ميں كئي گاڑيوں كو نذر آتش كرديا گيا ہے يورپ ميں عوام كے اس غم و غصے سےاس خطے ميں وسيع پيمانے پر انساني حقوق كي خلافورزي كا پتہ چلتا ہے
آپ کا تبصرہ