مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بحری محاصرے، فضائی حملوں اور غیرقانونی دباؤ کا سلسلہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کے مقابلے میں اسلامی جمہوری ایران اپنے دفاع کے جائز اور فطری حق کے استعمال کے لیے تمام ذرائع بروئے کار لائے گا۔
وزارت خارجہ کے بیان میں ایرانی مسلح افواج کی جانب سے ملک کے دفاع میں ادا کیے جانے والے کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایران اپنی خودمختاری، آزادی اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے مزاحمت کا راستہ جاری رکھے گا اور دشمن کی جارحیت کے مکمل خاتمے تک استقامت کا مظاہرہ کرے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکہ 28 جون کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کی بندرگاہوں اور تجارتی جہازرانی کے خلاف بحری محاصرہ جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ ملک کے مختلف علاقوں پر حملوں، اقتصادی دباؤ اور غیرقانونی دھمکیوں کے ذریعے جارحانہ اقدامات کا سلسلہ بھی برقرار ہے۔ اس کے جواب میں ایرانی مسلح افواج کی دفاعی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری ہیں۔
وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی 14 دسمبر 1974 کی قرارداد نمبر 3314 کے مطابق بحری محاصرہ ایک جارحانہ اقدام شمار ہوتا ہے۔ بیان میں امریکی حملوں کو اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 2 کی شق 4 کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ فوجی و غیر فوجی اہداف، شہری بنیادی ڈھانچے اور ایران کے اندر و بیرونِ ملک، بالخصوص عراق میں ایرانی شہریوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے، اور ایران ان تمام اقدامات کے مقابلے میں اپنے دفاع کے جائز حق سے بھرپور استفادہ کرے گا۔
آپ کا تبصرہ