مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ذرائع ابلاغ اور سمندری نقل و حمل کے تجزیاتی اداروں نے باب المندب آبنائے کی بندش کے نتیجے میں سعودی عرب اور عالمی توانائی مارکیٹ کو پہنچنے والے ممکنہ بھاری نقصانات کا جائزہ لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق الجزیرہ نیٹ ورک نے اپنی رپورٹ میں سعودی عرب کو درپیش نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بحیرہ احمر اور باب المندب میں سعودی عرب کی سمندری ناکہ بندی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی حملے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں بھی جہاز رانی کو مشکلات کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ برینٹ خام تیل کے مستقبل کے معاہدوں کی قیمت میں 1.12 ڈالر اضافہ ہوا اور یہ 89.22 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی تیل کے مستقبل کے معاہدوں میں 74 سینٹ اضافہ ہوا اور قیمت 83.23 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
رائٹرز کے مطابق باب المندب کا مکمل راستہ بند ہونے کی صورت میں عالمی تیل کی سپلائی میں تقریباً 7 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے، کیونکہ سعودی عرب کی بڑی مقدار میں تیل کی برآمدات موجودہ راستوں سے باہر نہیں جا سکیں گی۔
سمندری نقل و حمل کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے والی کمپنی کپلر نے کہا کہ یمنی فریق کے اس تنازع میں شامل ہونے سے خطرہ آبنائے ہرمز سے بحیرۂ احمر منتقل ہو گیا ہے اور باب المندب کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں، جو سعودی خام تیل، ریفائنری مصنوعات اور یورپ و ایشیا کے درمیان تجارت کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔
بلومبرگ کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ جون میں سعودی عرب کی ینبع بندرگاہ سے خام تیل کی برآمدات 4.19 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئیں۔ یہ اضافہ اس وقت ہوا جب آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی مشکلات کے بعد سعودی عرب نے اپنی بڑی مقدار میں برآمدات کو بحیرۂ احمر کے راستے منتقل کیا۔
کپلر کے مطابق باب المندب میں رکاوٹ کے باعث ینبع سے ایشیا جانے والے سعودی تیل بردار جہازوں کو شمالی راستے اور نہر سویز کے ذریعے سفر کرنا پڑے گا۔ اس کے نتیجے میں ینبع سے جنوبی کوریا تک سفر کا دورانیہ 24 دن سے بڑھ کر 54 دن تک پہنچ جائے گا۔
کپلر نے اندازہ لگایا ہے کہ متبادل راستے کے باعث سمندری نقل و حمل کی طلب موجودہ سطح سے تقریباً تین گنا بڑھ سکتی ہے۔ کمپنی کے مطابق بڑے تیل بردار جہاز نہر سویز کی گہرائی کی محدودیت کے باعث مکمل گنجائش کے ساتھ گزر نہیں سکتے، جس کے لیے سویز میکس جہازوں کے استعمال یا بڑے جہازوں کو کم گنجائش کے ساتھ چلانے کی ضرورت پڑے گی۔
کمپنی نے مزید کہا کہ متبادل راستے کے لیے ینبع بندرگاہ پر لوڈنگ کے عمل کی دوبارہ تنظیم، چھوٹے تیل بردار جہازوں پر زیادہ انحصار اور نہر سویز میں ممکنہ ٹریفک کے انتظام کی ضرورت ہوگی۔
کپلر کے مطابق باب المندب سے بچتے ہوئے مشرق وسطی اور مشرقی ایشیا کے درمیان سفر کا وقت تقریباً 50 دن تک پہنچ سکتا ہے، جو موجودہ وقت سے دوگنا سے زیادہ ہے۔ اس سے نقل و حمل کے اخراجات اور ایندھن کی کھپت میں اضافہ ہوگا، جبکہ عالمی سطح پر تیل بردار جہازوں کی تقسیمِ کار بھی متاثر ہوگی، جس کے نتیجے میں ایشیائی منڈیوں کے لیے فوری دستیاب تیل کی مقدار کم ہو سکتی ہے۔
تاہم کپلر کا کہنا ہے کہ باب المندب میں رکاوٹ کا لازمی مطلب سعودی تیل کی برآمدات کا مکمل رک جانا نہیں ہے، کیونکہ کارگو کو طویل متبادل راستوں سے بھیجا جا سکتا ہے، لیکن اس سے تیل کی ترسیل کے اخراجات بڑھیں گے اور ایشیائی خریداروں کے لیے تیل کی قیمت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ