28 جون، 2026، 4:40 PM

امریکی حکمرانوں کی سرشت میں انسان دشمنی اور جنگی جرائم رچے بسے ہیں، ایرانی چیف جسٹس

امریکی حکمرانوں کی سرشت میں انسان دشمنی اور جنگی جرائم رچے بسے ہیں، ایرانی چیف جسٹس

ایرانی چیف جسٹس غلام حسین محسنی اژہ ای نے امریکہ کو انسانیت دشمن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکمرانوں کی فطرت میں قتل و غارت اور انسانی حقوق سے دشمنی رچی بسی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی اژہ ای نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے انسانی حقوق کے دفاع کے دعوے مضحکہ خیز ہیں، کیونکہ امریکی حکومت کی سرشت میں جرم، قتل و غارت اور انسانیت سے دشمنی شامل ہے۔

محسنی اژہ ای نے امریکی انسانی حقوق کا جائزہ اور ان کے اصل چہرے کو بے نقاب کرنے والی کمیٹی کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شرپسند امریکی حکومت کی فطرت ہی مجرمانہ ہے اور امریکی حکمرانوں کے مزاج میں انسانیت اور انسانی حقوق سے دشمنی رچی بسی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوجی جارحیت اور معاشی دہشت گردی کے ساتھ ساتھ امریکہ کی بالادستی قائم رکھنے کا ایک اہم ذریعہ میڈیا وار، جھوٹ، فریب اور حقائق کو مسخ کرنا ہے۔

چیف جسٹس کے مطابق امریکہ حقیقت کو الٹ کر پیش کرنے، جھوٹ کو سچ اور اپنے جرائم کو جائز ثابت کرنے میں مہارت رکھتا ہے اور اسی مقصد کے لیے نفسیاتی جنگ، متوازی بیانیے اور منظم گمراہ کن اطلاعات کا سہارا لیتا ہے تاکہ جارحیت کے بعد عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی عدلیہ وزارت خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے تعاون سے امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف کیے گئے اقدامات سے متعلق شواہد، دستاویزات اور قانونی مواد اکٹھا کر رہی ہے تاکہ بین الاقوامی عدالتوں میں فوجداری مقدمات دائر کیے جا سکیں۔

محسنی اژہ ای نے زور دیا کہ بین الاقوامی قانونی معیار کے مطابق شواہد، تصاویر، دستاویزات اور عینی گواہیوں کا جمع کرنا ان مقدمات کی کامیابی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جارحیت کے دوران ہونے والے جنگی جرائم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج نے جان بوجھ کر تعلیمی اداروں، اسپتالوں، رہائشی علاقوں اور عوامی خدمات کے مراکز کو نشانہ بنایا، حالانکہ ان میں سے بعض مقامات کسی بھی فوجی ہدف سے کئی کلومیٹر دور واقع تھے۔

ان کے بقول، یہ تمام واقعات واضح جنگی جرائم کی مثالیں ہیں اور ہر واقعے پر الگ فرد جرم عائد کی جا سکتی ہے۔

ایرانی چیف جسٹس نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وسیع فوجی منصوبہ بندی اور جدید عسکری صلاحیتوں کے باوجود ایران کے خلاف اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کا خیال تھا کہ فضائی حملوں اور ایران مخالف عناصر کی زمینی کارروائیوں کے ذریعے 48 گھنٹوں کے اندر ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جائے گا، تاہم بھرپور منصوبہ بندی، وسیع ہم آہنگی اور جدید ہتھیاروں کے استعمال کے باوجود یہ اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے۔

News ID 1940046

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha