6 اپریل، 2026، 5:21 PM

امریکہ_ اسرائیل کو جنگ مہنگی پڑ گئی، بھاری مالی اور فوجی نقصان

امریکہ_ اسرائیل کو جنگ مہنگی پڑ گئی، بھاری مالی اور فوجی نقصان

بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق ایران کی کامیابی پالیسیوں کی وجہ سے امریکا اور اسرائیل کو یہ جنگ مالی اور عسکری طور پر انتہائی مہنگی ثابت ہو رہی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی امور کے ماہر اور عبرانی اخبار کے تجزیہ کار بن ڈرور یمینی نے اعتراف کیا ہے کہ فتوحات کا دور گزر چکا ہے اور سیاست دانوں کو حقیقت کا سامنا کرتے ہوئے کھوکھلے دعوے ترک کرنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ حزب اللہ اور ایران کی شکست کے دعوے صہیونیوں کے لیے مایوس کن جھٹکا ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ نہ تو ایران کے خلاف فیصلہ کن کامیابی ممکن ہے اور نہ ہی حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صرف باتوں سے فتح حاصل نہیں ہوتی اور بمباری و تباہی کو حقیقی کامیابی نہیں کہا جا سکتا، جیسا کہ غزہ میں دو سال گزرنے کے باوجود کوئی واضح کامیابی حاصل نہیں ہو سکی اور حماس اب بھی قائم ہے۔

ایک ترک اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مضبوط کر کے عالمی توانائی منڈی میں طاقت کا توازن تبدیل کر سکتا ہے اور ڈالر کی حیثیت کو کمزور بنا سکتا ہے، کیونکہ دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل اس اہم گزرگاہ سے گزرتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران کا اثر و رسوخ بڑھتا رہا تو وہ نہ صرف معاشی فوائد حاصل کرے گا بلکہ ایک مضبوط دباؤ کا ذریعہ بھی بن جائے گا، جس کے نتیجے میں کچھ ممالک توانائی کی ادائیگی کے لیے متبادل کرنسیوں کا استعمال شروع کر سکتے ہیں۔

ایک تحقیقی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے صرف 37 دنوں میں اخراجات 42 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، جبکہ ابتدائی چھ دنوں میں ہی 11 ارب ڈالر خرچ ہوئے تھے اور روزانہ ایک ارب ڈالر خرچ کرنے کی کوشش جاری ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران نے امریکی مہنگے عسکری ساز و سامان کو نشانہ بنایا ہے جن میں ایک انتہائی مہنگا طیارہ اور جدید ریڈار نظام شامل ہیں، جبکہ تل ابیب کو ایران اور لبنان کے خلاف جنگ میں تقریباً 15 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے اور یہ رقم مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

امریکی فوج کے ایک سابق افسر نے کہا ہے کہ امریکا اور تل ابیب موجودہ صورتحال کو زیادہ دیر برقرار نہیں رکھ سکتے، اور امریکا کے پاس کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی غلطیوں کا اعتراف نہیں کریں گے اور زمینی حملے کی صورت میں امریکی فوجیوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب عراق کی ایک مزاحمتی جماعت کے رہنما عبدالقادر الکربلائی نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں اس کے مفادات بھی نشانہ بن سکتے ہیں اور اس حوالے سے کوئی حد مقرر نہیں۔

اسی دوران اطلاعات ہیں کہ شمالی عراق میں غیر ملکی فوجی ٹھکانوں پر نئے حملے کیے گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایران کے تازہ میزائل حملوں کے نتیجے میں تل ابیب اور دیگر علاقوں میں آگ بھڑک اٹھی اور خطرے کے سائرن بج اٹھے، جبکہ ایک میزائل کے مختلف حصے 15 مقامات پر گرے جس سے نقصان ہوا۔

لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایک ہی دن میں 31 کارروائیاں کرتے ہوئے صہیونی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں لیمان اور شلومی نامی بستیاں شامل ہیں۔

دوسری جانب ایک خبر رساں ادارے کے نمائندے نے بتایا ہے کہ ایران کا ایک میزائل تل ابیب کے ایک اہم مقام پر گرا، تاہم اس سے متعلق تصاویر جاری کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں شدید دھماکوں اور بڑے پیمانے پر تباہی کی اطلاعات ہیں۔

عراق کی مزاحمتی تنظیم کے ایک اور رہنما احمد الحمداوی نے خبردار کیا ہے کہ اگر دشمن نے زبردستی آبنائے ہرمز کو کھولنے کی کوشش کی تو تیل اور گیس کے تمام مراکز نشانہ بنیں گے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں یا تو سب کے لیے سلامتی ہوگی یا کسی کے لیے نہیں، جبکہ دشمن جنگ بندی کے لیے مختلف ذرائع سے رابطے کر رہا ہے اور عالمی حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔

News ID 1938774

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha