مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نے رپورٹ کیا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک ایران نے امریکہ کے 16 قیمتی اور جدید ایم کیو-9 ڈرونز کو مار گرایا ہے۔
سی بی ایس کے مطابق، ان میں سے ہر ڈرون کی قیمت تقریباً 30 ملین ڈالر ہے، جس کے حساب سے تباہ کیے گئے ڈرونز کی مجموعی لاگت تقریباً 500 ملین ڈالر بنتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ ڈرونز جاسوسی، نگرانی، انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے اور ٹارگٹڈ کارروائیوں کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے ۲۸ فروری ۲۰۲۶ کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کرتے ہوئے رہبر معظم آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای، متعدد اعلیٰ فوجی عہدیداروں اور شہریوں کو شہید کر دیا تھا، جبکہ میناب کے ایک اسکول پر امریکی بمباری میں ۱۷۰ سے زائد کمسن طالبات بھی شہید ہوگئی تھیں۔
اس کے بعد ایران نے اپنے دفاع کے قانونی حق کے تحت مقبوضہ علاقوں اور خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا اور تل ابیب اور واشنگٹن سے وابستہ بحری جہازوں کی آبنائے ہرمز سے گزرنے پر پابندی عائد کر دی۔
اسی دوران عراق اور لبنان کی مزاحمتی تنظیموں نے بھی ایران کی حمایت میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے خلاف کارروائیاں کیں، جبکہ یمن کی مزاحمت نے بھی مناسب وقت پر اس محاذ میں شامل ہونے کا اعلان کیا تھا۔
مشرق وسطیٰ میں جاری اس جنگ اور آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت محدود ہونے کے باعث عالمی سطح پر توانائی کا بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
آپ کا تبصرہ