مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، خبر رساں ادارے رائٹرز کی جانب سے ادارہ ایپسوس کے تعاون سے کیے گئے ایک حالیہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ ہر 10 میں سے 6 امریکی شہریوں کا خیال ہے کہ Donald Trump عمر بڑھنے کے ساتھ مزاج کے اعتبار سے غیر متوازن ہو گئے ہیں اور ان کی ذہنی صلاحیتوں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
چھ روز تک جاری رہنے والا یہ سروے پیر کے روز مکمل ہوا، جو 79 سالہ ٹرمپ کے کانگریس میں سالانہ خطاب سے ایک دن قبل اور امریکی قانون سازوں و ججوں کی جانب سے تنقید کے بعد سامنے آیا۔
اعداد و شمار کے مطابق 61 فیصد شرکاء نے ٹرمپ کو عمر رسیدگی کے باعث مزاج کے اعتبار سے غیر مستحکم قرار دیا۔ ان میں 89 فیصد ڈیموکریٹس، 30 فیصد ری پبلکنز اور 64 فیصد آزاد حیثیت رکھنے والے افراد شامل تھے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس انگل نے ابتدائی ردعمل میں ان نتائج کو گمراہ کن اور مایوس کن بیانیے کی عکاسی قرار دیا اور ٹرمپ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ذہانت، غیر معمولی توانائی اور عوام تک رسائی انہیں سابق صدر جوبائیڈن سے ممتاز بناتی ہے۔
سروے کے مطابق اس وقت صرف 40 فیصد امریکی شہری ٹرمپ کی صدارتی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ انہوں نے اپنی دوسری مدت کا آغاز 47 فیصد حمایت کے ساتھ کیا تھا، تاہم اپریل 2025 سے ان کی مقبولیت میں کمی آتی رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی عوام کی جانب سے عمر رسیدہ قیادت پر تنقید صرف ٹرمپ تک محدود نہیں۔ 79 فیصد شرکاء کا ماننا ہے کہ واشنگٹن کے سیاسی رہنما اس قدر عمر رسیدہ ہیں کہ وہ اکثریتی امریکی عوام کی نمائندگی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ سینیٹ کی اوسط عمر تقریباً 64 سال جبکہ ایوان نمائندگان کی اوسط عمر 58 سال بتائی گئی ہے۔
ڈیموکریٹک شرکاء میں نوجوان قیادت کے حق میں رجحان زیادہ پایا گیا۔
واضح رہے کہ ٹرمپ جنوری 2025 میں 78 برس کی عمر میں دوسری مرتبہ وائٹ ہاؤس واپس آئے اور حلف برداری کے دن عمر کے لحاظ سے امریکا کے معمر ترین صدر بنے۔
اگرچہ ری پبلکن حلقے اب بھی ٹرمپ کی کارکردگی کا دفاع کر رہے ہیں، تاہم ڈیموکریٹس میں ان کی صلاحیتوں پر اعتماد 29 فیصد سے کم ہو کر 19 فیصد رہ گیا ہے۔ آزاد حیثیت رکھنے والے افراد میں بھی ٹرمپ کو باصلاحیت سمجھنے والوں کی شرح 2023 میں 53 فیصد سے کم ہو کر 36 فیصد رہ گئی ہے۔
آپ کا تبصرہ