مہر خبر رساں ایجنسی کے مطابق، امریکا ایک غیر معمولی اور غیر مسبوق سکیورٹی اجلاس منعقد کرنے جا رہا ہے، جس میں دنیا کے 34 ممالک کے اعلیٰ فوجی حکام شرکت کریں گے۔ امریکی فوجی قیادت کی میزبانی میں ہونے والے اس اجلاس میں عالمی سلامتی کی ترجیحات، دہشت گرد نیٹ ورکس اور بیرونی خطرات سے نمٹنے پر مشترکہ حکمتِ عملی پر غور کیا جائے گا۔
امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق اجلاس کا بنیادی مقصد عالمی سلامتی سے متعلق ترجیحات پر ایک مشترکہ فہم پیدا کرنا اور دہشت گرد نیٹ ورکس و بیرونی عناصر سے نمٹنے کے لیے ہم آہنگ لائحہ عمل تشکیل دینا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ماضی میں دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں کے نام پر کیریبین خطے میں موجود کشتیوں کو نشانہ بناتا رہا ہے اور اب تک اس سلسلے میں کم از کم 35 فضائی حملے کرچکا ہے، جب کہ وینزویلا کے صدر کے اغوا جیسے اقدامات بھی امریکی پالیسیوں پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔
ادھر نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اس اجلاس میں شرکت کے لیے ڈنمارک، برطانیہ اور فرانس کے اعلی فوجی حکام کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔
آپ کا تبصرہ