جب تک لبنان ،اسرائیل کے خطرے کی زد میں ہے، تب تک ہم جنگ کے مرکز میں ہیں

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے اپنے خطاب کے آغاز میں لبنان کے یوم استقلال کی مناسبت سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے لبنان کے استقلال ، آزادی اور اس کی حاکمیت کے تحفظ پر تاکید کی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے اپنے خطاب کے آغاز میں لبنان کے یوم استقلال کی مناسبت سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے لبنان کے استقلال ، آزادی اور اس کی حاکمیت کے تحفظ پر تاکید کی۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا کہ لبنان کے استقلال کی حفاظت کے لئے تمام لبنانیوں کو اپنی ذمہ داری پر عمل کرنا چاہیے۔

جنوب لبنان سے صہیونیوں کا فرار بڑی کامیابی

سید حسن نصر اللہ نے اسلامی مزاحمت کی سن 1985 سے لبنان کے دارالحکومت ، جبل لبنان ، صیدا اور راشیا سے لیکر سن 2000 میں جنوب لبنان سے صہیونیوں کے فرار کی بڑی کامیابی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ لبنانی عوام کی اکثریت نے مزاحمت کاراستہ اختیار کیا اور غاصت صہیونی کو ملک سے باہر نکالنے میں اہم کردار ادا کیا اور میں لبنانی عوام کی مزاحمت پر ایمان اور یقین رکھتا ہوں۔  

اسرائيل کے ساتھ بعض عرب ممالک کے سفارتی تعلقات کی مذمت

حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے بعض عرب ممالک کی طرف سے فلسطینیوں کے ساتھ خیانت و غداری اور ان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے سریع فروغ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بعض عرب ممالک کے بعد اب مراکش نے بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرلئے ہیں۔ بعض عرب ممالک کے حکمرانوں کے چہرے سے اسلام کی نقاب اتر گئی ہے عرب حمکرانوں کی فلسطینی مسلمانوں اور بیت المقدس کے ساتھ غداری اور خیانت سب پر آشکار ہوگئی ہے۔

لبنان میں کورونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں تعاون پر آمادگی

حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے لبنان میں کورونا وائرس کے پھیلنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم لبنان کی وزارت صحت کے ساتھ کورونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں مکمل تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں ۔لبنانی عوام کی جان کی حفاظت سب سے اہم ہے۔

الطیونہ علاقہ کے حوادث کی طرف اشارہ

سید حسن نصر اللہ نے الطیونہ کے دردناک حوادث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ الطیونہ کا کیس فوجی عدالت میں چل رہا ہے ۔ الطیونہ کے حادثے کے شہداء اور زخمیوں کے اہلخانہ انصاف کے منتظر ہیں مذہبی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے اس کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش درحقیقت شہداء، زخمیوں اور ان کے اہلخانہ کی توہین ہے۔

لبنان میں ایندھن کی صورتحال

حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے لبنان میں پیٹرول اور ایندھن کی قلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ مشکل باقی رہتی ہے تو ہم ایران سے پھر مدد طلب کریں گے اور پیٹرول اور ایندھن کی مشکل کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ بازار میں اس وقت ایندھن موجود ہے اور طولانی صفیں ختم ہوگئی ہیں ، ہم تیل کی کمپنیوں کی جگہ نہیں لینا چاہتے ہم عوام کی مشکلات کو کم کرنے کے سلسلے میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے تیل کے کئی ٹینکر بانیاس سے بعلبک منتقل کردیئے ہیں۔

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ لبنانی حکومت پر امریکی دباؤ کی وجہ سے ہم ایندھن کو شام کے ذریعہ لبنان لانے پر مجبور ہوگئے۔پہلے مرحلے کا آغاز ستمبر میں ہوا اور نومبر میں ختم ہوگیا اور دوسرے مرحلے کا آغاز آئندہ چند دنوں میں ہوگا۔ ہم نے ایندھن کا بڑا حصہ میونسپلٹیوں، حکومتی اداروں، اسپتالوں اور بچوں اور بزرگوں کی حفاظت کے مراکز تک پہنچایا ۔ اور اس امداد رسانی پر 2 ملین 6 لاکھ ڈالر صرف ہوئے۔

News Code 1908963

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 14 =