امریکہ، افغانستان میں قومی تعمیراور جمہوریت جیسے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا

امریکہ کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی پروفیسر شیریں ہینٹر نے 11 ستمبر کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں قومی تعمیر اور جمہوریت جیسے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور امریکہ کی عالمی حیثیت ختم ہوگئی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے بین الاقوامی امور کے نامہ نگار کے ساتھ گفتگو میں امریکہ کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی پروفیسر شیریں ہینٹر نے 11 ستمبر 2001 کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں قومی تعمیر اور جمہوریت جیسے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور امریکہ کی عالمی حیثیت ختم ہوگئی ہے۔ اس نے کہا کہ 11 ستمبر کے واقعہ کو 20 سال بیت گئے ہیں لیکن ابھی تک اس کے پس پردہ رازوں کو اجاگر نہیں کیا گيا ہے۔ گذشتہ 20 سال میں اس واقعہ کےسکیورٹی  ابہامات کے بارے میں متعدد مقالات پیش اور نشر کئے گئے ہیں لیکن ابہامات اپنی جگہ پر باقی ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ 11 ستمبر کے واقعہ کے ذریعہ دنیا میں نئے تمدن کو پیش کرنا چاہتا تھا اور اس لئے اس نے افغانستان کا رخ کیا تاکہ افغان قوم کو نئی تمدن سازی سے آگاہ اور آشنا کرے لیکن امریکہ کو اس ہدف میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکی پروفیسر شریں ہینٹر کا کہنا ہے کہ سوال یہ ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں ایک ٹریلین ڈالر خرچ گئے اور 20 سال بعد وہاں سے ذلت آمیز طریقہ سے نکل گیا ، حتی امریکہ کے اس تحقیر آمیز انخلاء پر اس کے اتحادی ممالک نے بھی شدید تنقید کی۔ اس نے کہا کہ امریکہ نے افغانستان میں امن و سلامتی کے بجائے بد امنی کو فروغ دیا اور 20 سال بعد وہاں سے چپکے سے نکل گيا۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی پروفیسر نے امریکہ کی طرف سے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے بارے میں مہر نیوز ایجنسی کے نامہ ںگار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اپنے بعض اہداف میں کامیاب ہوا مثال کے طور پر گذشتہ 20 سال میں افغانستان سے امریکہ کے خلاف کوئي حملہ نہیں کیا گيا۔ افغانستان میں جدید تعلیم کو فروغ ملا ہے اور افغان خواتین کو بھی میدان میں کام کرنے کاموقع ملا ہے لیکن اس کے باوجود امریکہ افغانستان میں قومی تعمیر اور جمہوریت جیسے امور کے فروغ میں ناکام رہا ہے۔

پروفیسر شریں ہینٹر نے طالبان اور امریکہ کے پس پردہ مذاکرات کے بارے مہر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات پس پردہ نہیں ہوئے بلکہ آشکار ہوئے ہیں اور زلمائے خلیل زاد امریکہ کی طرف سے مذاکرات میں حصہ لیتے رہے ہیں۔

پروفیسر شریں ہینٹر نے افغانستان اور عراق میں امریکی فوجی مداخلت کی وجہ سے بڑی تباہی  پر مبنی مہر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی دوسرے ممالک پر لشکر کشی اپنے مفادات کی روشنی میں ہوتی ہے اگر 11 ستمبر کا واقعہ رونما نہ ہوتا تو امریکہ افغانستان پر لشکر کشی نہ کرتا اور اسی طرح عراق کے معدوم صدر صدام کی غلط پالیسیاں عراق پرامریکہ کے حملے کا موجب بنیں۔

News Code 1908123

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 2 =