پاکستانی حکومت پر عدالتی فیصلوں پر عمل در آمد نہ کرنے کا الزام

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پاکستانی حکومت کو عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کرانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور نہ ہی عدالتی فیصلے حکومتی ترجیحات میں ہی شامل نہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایکس پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پاکستانی حکومت کو عدالتی فیصلوں پر عمل  درآمد کرانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور نہ ہی عدالتی فیصلے حکومتی ترجیحات میں ہی شامل نہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں ماحولیاتی آلودگی ختم کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے پر توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔ تاہم وفاقی سیکریٹریز کے نمائندہ افسران پیش نہ ہوئے۔ ہائی کورٹ نے وفاقی سیکریٹریز کے نمائندوں کی عدم پیشی پر شدید اظہار برہمی کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان، سیکرٹری ماحولیات اور چئیرمین سی ڈی اے عامر علی احمد کو آئندہ ہفتے ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

چیف جسٹس ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ لگتا ہے عدالتی فیصلے پر عمل کرنا حکومتی ترجیحات میں ہی شامل نہیں، وفاقی حکومت اور سی ڈی اے کا ماحول کو صاف رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں، امیروں اور مخصوص لوگوں کے لیے کام ہوتا رہتا ہے، عام عوام کے لیے کچھ نہیں، عام آدمی مر بھی رہا ہو تو سمجھا جاتا ہے خیر ہے۔

News Code 1900724

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 3 =