برطانیہ میں لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد میں 14 خواتین ہلاک

برطانیہ میں کورونا وائرس کی وجہ سے لگائے گئے لاک ڈاون کے دوران گھریلو تشدد کی شرح میں خوفناک اضافہ ہوا ہے۔برطانیہ میں عدم برداشت کے حامل افراد نے تین ہفتوں میں چودہ خواتین اور دوبچوں کو قتل کردیا ۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بی بی سی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ برطانیہ میں کورونا وائرس کی وجہ سے لگائے گئے لاک ڈاون کے دوران گھریلو تشدد کی شرح میں خوفناک اضافہ ہوا ہے۔برطانیہ میں عدم برداشت کے حامل افراد نے تین ہفتوں میں چودہ خواتین اور دوبچوں کو قتل کردیا ۔ ایک برطانوی تنظیم کے مطابق یہ قتل برطانیہ میں کورونا وائرس لاک ڈاون کے پہلے مہینے  میں ہی سامنے آئے تھے جو صورتحال کی سنگینی کا پتہ دیتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق  برطانیہ میں میڈیکل پروٹیکشن سوسائٹی کا کہنا ہے کہ قومی سطح پر گھریلو تشدد کے واقعات سے متعلق ہیلپ لائن سے رابطے میں 49 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

تشدد کی اطلاعات میں اضافے کے پیش نظر اس ادارے نے اپنی رپورٹ میں حکومت سے کہا ہے کہ وہ وبا کے دوران گھریلو تشدد کے حوالے سے اپنی اسٹریٹیجی بنائے۔ میڈیکل پروٹیکشن سوسائٹی، ایم پی ایس کا کہنا ہے کہ متاثرین کے لیے محفوظ جگہیں ہونی چاہیے۔ خواتین کی ہلاکتوں سےمتعلق ڈیٹا اکٹھا کرنے والے ریسرچرز کا کہنا ہے کہ 14 خواتین اور دو بچوں کو لاک ڈاؤن کے پہلے تین ہفتوں کے دوران ہلاک کیا گیا۔

برطانیہ میں  گیارہ سال کے دوران تین ہفتوں میں قتل ہونے والی خواتین اور بچوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

News Code 1899743

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 4 =