بھارت ہندو انتہا پسندوں کے دبآؤ کے بعد عیسائیوں کے قبرستان سے مجسمہ ہٹا دیا گیا

بھارت کے شہر بنگلور میں انتہا پسند ہندوؤں کے اعتراض اور دباؤ پر مسیح برادری کے قبرستان کے داخلی راستے پر نصب 12 فٹ لمبے مجسمے کو ہٹا دیا گیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت کے شہر بنگلور میں انتہا پسند ہندوؤں کے اعتراض اور دباؤ پر مسیح برادری کے قبرستان کے داخلی راستے پر نصب 12 فٹ لمبے مجسمے کو ہٹا دیا گیا ہے۔ بنگلور کے آرچ بشپ پیٹر مچاڈو نے مقامی پولیس کی جانب سے دیہی ضلع میں مسیحی قبرستان کی جگہ پر نصب مجسمے کو ہٹانے کی مذمت کی۔ انہوں نے بتایا کہ ہندو بنیاد پرستوں نے اس مجسمے پر اعتراض کیا تھا اور میسح برادری کے افراد کو قبرستان کے قریب آنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔  آرچ بشپ پیٹر مچاڈو نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے کہ پولیس نے محض چند انتہا پسند ہندوؤں کے دباؤ میں آکر مجسمہ ہٹا دیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا عمل مقامی سطح پر مذہبی آہنگی کو متاثر کرے گا اور یہ عمل بھارتی آئین میں تفویض مذہبی آزادی کے منافی ہے۔  کرناٹک میں اس وقت ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت ہے۔ ہندو انتہا پسند بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد بھارت میں اقلیتوں کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

News Code 1898428

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 0 =