دنیا میں پانچ میں سے چار بچے صحت مند اندازِ زندگی سے محروم

عالمی ادارہِ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں 11 سے 17 سال کی عمر کے ہر پانچ میں سے چار بچے صحت مند اندازِ زندگی کے لیے درکار ورزش نہیں کر رہے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے غیر ملکی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عالمی ادارہِ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں 11 سے 17 سال کی عمر کے ہر پانچ میں سے چار بچے صحت مند اندازِ زندگی کے لیے درکار ورزش نہیں کر رہے ہیں۔ اپنی نوعیت کے ایسے پہلے جائزے میں کہا گیا ہے کہ اس سے بچوں کی ذہنی نشوونما اور معاشرتی صلاحیتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ ایک گھنٹے کی ورزش نہ کرنے کا مسئلہ غریب اور امیر دونوں ممالک میں موجود ہے۔ زیرِ تحقیق 146 ممالک میں سے 142 میں لڑکے لڑکیوں کے مقابلے میں زیادہ ورزش کرتے ہیں۔

اس جائزے کے لیے ہر اس کام کو ورزش کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس سے آپ کے دل کی دھڑکن کی رفتار تیز ہو اور آپ کے پھیپھڑوں کو زور سے سانس لینا پڑے۔ اس میں بھاگنا، سائیکلنگ، تیراکی، فٹبال اور دیگر تمام ایسی چیزیں شامل ہیں۔ ایک دن کے لیے درمیانی سے شدید ورزش کا ہدف 60 منٹ کا ہے۔ڈبلیو ایچ او کی ڈاکٹر فیونا بل کہتی ہیں ’میرے خیال میں یہ کوئی بہت مشکل ہدف نہیں ہے۔ یہ تحقیق پر مبنی ہے کہ اچھی صحت اور نشوونما کے لیے کیا درکار ہے۔‘

 درمیانی اور شدید ورزش میں فرق یہ ہے کہ درمیانی نوعیت کی ورزش کرتے ہوئے آپ کسی سے بات کر سکتے ہیں جبکہ شدید ورزش کے دوران آپ کا سانس اس قدر تیز ہو گا کہ آپ کسی سے بات نہیں کر سکیں گے۔

News Code 1895942

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 6 =