عراق اور لبنان کے ہمدردوں کو سب سے پہلے بدامنی کا علاج کرنا چاہیے

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ایئر ڈیفنس یونیورسٹی کے فوجی جوانوں سے خطاب میں عراق اور لبنان میں جاری کشیدگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: عراق اور لبنان کے ہمدردوں کو سب سے پہلے بدامنی کا علاج اور دونوں ممالک کے عوام کو بھی قانونی دائرے میں مشکلات کا حل تلاش کرنا چاہیے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے خاتم الانبیاء  ایئر ڈیفنس یونیورسٹی کے فوجی جوانوں سے خطاب میں عراق اور لبنان میں جاری کشیدگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: عراق اور لبنان کے ہمدردوں کو سب سے پہلے بدامنی کا علاج اور دونوں ممالک کے عوام کو بھی قانونی دائرے میں مشکلات کا حل تلاش کرنا چاہیے۔

اطلاعات کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی آج  خاتم الانبیاء ایئر ڈیفنس یونیورسٹی میں حاضر ہوئے اور سب سے پہلے شہیدوں کے مزار پر فاتحہ خوانی کی اور انھیں خراج تحسین پیش کیا ۔ اس کے بعد خاتم الانبیا ايئر ڈیفنس یونیورسٹی میں  ایران کی فوجی یونیورسٹیوں سے فارغ ہونے والے فوجی جوانوں نے رہبر معظم کو سلامی پیش کی اور پھر رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس شاندار تقریب میں فوجی جوانوں کو اعزازات نوازا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں ملک  میں امن و سلامتی برقرار رکھنے کے سلسلے میں مسلح افواج کی ذمہ داری کو اہم قراردیتے ہوئے فرمایا: غیر علاقائی دشمن  بعض علاقائی ممالک کی سکیورٹی اور سلامتی کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں اوردشمن کی اس گھناؤنی سازش کو ہم آج عراق و لبنان میں مشاہدہ کررہے ہیں ۔ عراق اور لبنان سے ہمدردی رکھنے والوں کو مذکورہ ممالک  میں امن و سلامتی کو بحال کرنے میں مدد فراہم کرنی چاہیے اور عراق و لبنان کے عوام کو بھی قانون کے دائرے میں اپنے مطالبات کو منوانے کے سلسلے میں کوشش کرنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: عراق اور لبنان میں جاری کشیدگی کے پيچھے جن ممالک کا ہاتھ ہے انھیں سبھی جانتے ہیں ۔ امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں نے خطے کے امن و صلح کو نشانہ بنا رکھا ہے ۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے برطانیہ، فرانس، اور امریکہ کی افواج کی جانب سے گذشتہ سو برسوں میں ہونے والے بھیانک جرائم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: مذکورہ سامراجی ممالک کی افواج کا اعتماد سامراجی اور استکباری نظام پر ہے اور انھوں نے دنیا میں ہولناک جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور آج بھی جہاں کہیں قدم رکھتی ہیں وہاں وہ سنگین جرائم کا ارتکاب کرتی ہیں کیونکہ امریکی ، برطانوی اور فرانسیسی افواج اور ان کی اتحادی افواج قرآنی تعلیمات سے دورہیں ۔ قرآن پر اعتماد کرنے والی افواج ہر قسم کے ظلم و ستم سے دور رہ کر دنیا میں عدل و انصاف کے قیام کی تلاش و کوشش میں رہتی ہیں کیونکہ انھیں اپنے اعمال کا جواب دنیا اور آخرت دونوں جہاں میں اللہ تعالی کو دینا ہوگا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایران کی مسلح افواج "  فوج ، سپاہ اور رضاکار فورس "  کو با بصیرت قراردیتے ہوئے فرمایا: ایران کی مسلح افواج کو بھی دشمن کے شوم منصوبوں کے بارے میں آگاہ رہنا چاہیے اور دشمن کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنانے کے سلسلے میں بھی بصیرت سے عمل کرنا چاہیے۔

News Code 1894996

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 5 =