ایرانی کشتی کو ضبط کرنے کا اقدام غیر قانونی اور مشترکہ ایٹمی معاہدے کی واضح خلاف ورزی

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یورپی ممالک کے قول و فعل پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کی طرف سے ایرانی آئل ٹینکر کو ضبط کرنے کا اقدام غیر قانونی اورمشترکہ ایٹمی معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یورپی ممالک کے قول و فعل پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کی طرف سے ایرانی آئل ٹینکر کو ضبط کرنے کا اقدام غیر قانونی اورمشترکہ ایٹمی معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایرانی وزير خارجہ محمد جواد ظریف کے نیویارک اور لاطینی امریکی اور بعض افریقی ممالک کے دوروں کو کامیاب قراردیتے ہوئے کہا کہ ایران مذکورہ ممالک میں اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے انسٹکس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ  یورپی ممالک کے قول و فعل پر بھی کوئی اعتبار نہیں اگر انھوں نے مشترکہ ایٹمی معاہدے میں کئے گئے اپنے وعدوں پر عمل نہ کیا تو ایران تیسرا قدم اٹھانے پر مجبور ہوجائےگا۔ ترجمان نے جبل الطارق کے سمندر میں ایرانی کشتی پر برطانیہ کی راہزنی کو مشترکہ ایٹمی معاہدے کی صریح خلاف ورزی قراردیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کے اس اقدام کو مشترکہ کمیشن میں اٹھایا گیا اور اس سلسلے میں پیشرفت بھی حاصل ہوئی ہے۔

News Code 1892537

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 14 =