مہر خبررساں ایجنسی نے شنہوا کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ چین میں ایک بچہ ایک خاندان پالیسی کے خاتمے کے باوجود سرکاری اعداو شمار کے مطابق گزشتہ سال آبادی بڑھنے کی شرح میں نمایاں کمی آئی۔
چینی حکومت نے 2016 میں بچوں کی تعداد کو ایک سے بڑھا کر 2 کردیا تھا تاہم یہ تبدیلی جوڑوں کو مزید بچے پیدا کرنے کے لیے متاثر نہیں کرسکی اور ماہرین کے مطابق اس کی وجہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت والے ملک میں رہائش کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔
نیشنل بیورو آف اسٹیٹسٹکس (این بی ایس) کے ڈیٹا کے مطابق 2018 میں 1 کروڑ 52 لاکھ کے قریب بچے پیدا ہوئے جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 2 کروڑ تھی۔
پیپلز ریپبلک آف چائنا کی بنیاد رکھے جانے کے بعد سے آبادی کے بڑھنے کی شرح کم ترین سطح پر ہے جو 1960 کے برابر آگئی ہے جب ملک قحط کا شکار تھا۔
آبادی بڑھنے کی شرح کم ہونے کے باوجود چین 1 ارب 39 کروڑ کی آبادی کے ساتھ دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔
آپ کا تبصرہ