مہر خبررساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بنگلہ دیش میں کئی ہزار گارمنٹس ملازمین نے اہم برآمدی صنعت کی تنخواہوں میں اضافے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کیا۔
واضح رہے کہ گارمنٹس فیکٹریوں کے مالکان ملازمین کی جانب سے احتجاج، توڑ پھوڑ کے بعد تنخواہوں میں اضافے پر راضی ہوئے تھے۔
ایک ہفتے تک جاری رہنے والے اس پرتشدد مظاہروں میں ایک شخص ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے جبکہ سڑکوں کی بندش اور گاڑیوں اور فیکٹریوں توڑ پھوڑ کو روکنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال بھی کیا تھا۔
یونین لیڈر کا کہنا تھا کہ اگرچہ کئی ملازمین کام پر واپس آگئے لیکن زیادہ تر ملازمین تنخواہوں میں اضافے کے مجوزے سے ناخوش ہیں کیونکہ تنخواہوں میں توقع کے مطابق اضافہ نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ ستمبر میں بنگلہ دیشی حکومت نے کہا تھا کہ جنوری سے گارمنٹس ملازمین کے لیے کم از کم اجرت کو 51 فیصد اضافے سے 8ہزار ٹکا (95 ڈالر) تک ماہانہ کیا جائے گا اور یہ 2013 کے بعد سے پہلا اضافہ تھا۔
آپ کا تبصرہ