رواں سال 80 صحافیوں کو قتل کیا گیا

میڈیا واچ ڈاگ کی نئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سال 2018 میں قتل کیے گئے صحافیوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ میڈیا واچ ڈاگ کی نئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سال 2018 میں قتل کیے گئے صحافیوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

میڈیا واچ ڈاگ ’’رپورٹز ود آؤٹ بارڈرز‘‘ کے اعدادوشمار کے مطابق رواں سال سعودی صحافی جمال خاشقجی سمیت 80صحافیوں کو قتل کیا گیا اور 348 کو جیل کی ہوا کھانی پڑی جبکہ 60 سے زائد کو یرغمال بنا کر رکھا گیا۔

ادارے کے سربراہ کرسٹوف ڈیلوئر نے کہا کہ اس سلسلے میں سیاستدانوں اور بااثر کاروباری شخصیات کا بھی بڑا عمل دخل رہا جنہوں نے خود پر ہونے والی تنقید کے نتیجے میں ان صحافیوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات کا پرچار کیا اور نتیجتاً صحافیوں کے قتل کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔

2018  میں امریکہ بھی صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملکوں کی فہرست کا حصہ بن گیا اور اس فہرست میں اس کا پانچواں نمبر ہے جہاں جون میں اخبار ’کیپیٹل گزیٹ‘ کے دفتر میں فائرنگ کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک ملک افغانستان رہا جہاں فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے شاہ مرئی سمیت 15 صحافی لقمہ اجل بن گئے جبکہ 11 اور 9 ہلاکتوں کے ساتھ شام اور میکسکو بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ہلاک ہونے والے صحافیوں میں سے 50 فیصد سے زائد کو جان بوجھ کر قتل کیا گیا جبکہ 31 صحافی مختلف پرتشدد واقعات کے دوران پیشہ ورانہ ذمے داریاں انجام دیتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے۔

News Code 1886561

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 0 =