22 اکتوبر، 2018، 11:31 PM

آسٹریلیا کے وزیر اعظم کی 15 ہزار بچوں سے زیادتی کے واقعات پر معافی

آسٹریلیا کے وزیر اعظم کی 15 ہزار بچوں سے زیادتی کے واقعات پر معافی

آسٹریلیا نے جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے 15 ہزار سے زائد بچوں اور اُن کے والدین سے سرکاری سطح پر معافی مانگ لی۔

مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ آسٹریلیا نے جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے 15 ہزار سے زائد بچوں اور اُن کے والدین سے سرکاری سطح پر معافی مانگ لی۔ آسٹریلوی وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے پارلیمنٹ میں اپنی جذباتی تقریر میں ریاستی اداروں میں جنسی زیادتی کے شکار بچوں سے معافی مانگتے ہوئے اعتراف کیا کہ حکومت دل خراش واقعات کی روک تھام میں ناکام رہی۔

آسٹریلوی وزیراعظم کا خطاب براہ راست ٹی وی پر نشر کیا گیا جس میں آسٹریلوی وزیراعظم نے بھرائی ہوئی آواز میں بتایا کہ یہ ایسا جرم ہے جو ایک آسٹریلوی نے دوسرے آسٹریلوی کے ساتھ ریاستی اور مذہبی اداروں میں کیا، افسوس ہم نے کرب ناک کیفیت کا سامنا کرنے والے ان بچوں کو فراموش کردیا، آسٹریلوی حکومت ایسے تمام بچوں اور ان کے والدین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچنے پر سرکاری طور پر معافی کی خواستگار ہے۔

آسٹریلوی وزیراعظم کے خطاب سے قبل اراکین پارلیمنٹ جنسی زیادتی کے شکار بچوں سے اظہار یکجہتی کے لیے اپنی نشستوں پر کھڑے ہوئے اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جب کہ زیادتی کے شکار افراد اور ان کے اہل خانہ کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔

آسٹریلوی وزیراعظم کی جانب سے سرکاری معافی نامہ رائل کمیشن کی پانچ سالہ تحقیقاتی رپورٹ کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریاستی اداروں میں بچوں سے زیادتی کے 15 ہزار سے زائد واقعات سامنے آئے اور کسی کو انصاف نہیں مل سکا۔

رائل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے واقعات میں سب سے زیادہ چرچ کے پادری، یتیم خانوں کے انچارج اور دیگر طاقت ور شخصیات ملوث رہی ہیں جس کی وجہ سے زیادتی کے شکار بچوں کی شکایت کو دبا دیا جاتا ہے۔

News ID 1885010

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha