مہر خبررساں ایجنسی نے غیر ملکی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ملائیشیا کی پولیس نے کہاہے کہ اس نے چھوٹے ہتھیار اسمگل کرنے اور عبادتی مقامات پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے مزید 15 دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملائشیا پولیس کے سربراہ محمد فوزی ہارون نے کہا کہ مارچ اور مئی میں 6 ملائیشین، 6 فلپائنیوں، بنگلہ دیشی ریسٹورنٹ کا مالک اور شمالی افریقی ملک سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کو حراست میں لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ گرفتار کیے گئے ملائیشین میں 17 سالہ طالب علم بھی شامل ہے جس نے کوالا لمپور میں تفریحی مقامات، گرجاگھروں اور ہندوؤں کے مندروں کے خلاف استعمال کرنے کے لیے 6 مولوٹوو کاکٹیل تیار کیے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ طالب علم نے، جو داعش کا رکن ہے، اپریل میں کھلے مقام پر اپنی ڈیوائسز میں سے ایک کا تجربہ کیا اور اسے سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کو شیئر کرنے کے ایک گھنٹے بعد گرفتار کیا گیا، جس میں اس نے حملوں کی دھمکی دی تھی۔ پولیس چیف کا کہنا تھا کہ 9 مئی کو عام انتخابات کے دوران 51 سالہ ملائیشین خاتون کو بھی حراست میں لیا گیا، جو ووٹنگ سینٹر پر غیر مسلموں پر کار چڑھانے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔اس کے علاوہ مشتبہ خاتون نے غیر مسلمانوں کی عبادت گاہوں پر گیس سلنڈرز سے بھری گاڑی کے ذریعے حملہ کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر رکھی تھی۔انہوں نے کہا کہ 33 سالہ ملائیشین شخص کو داعش میں شمولیت کے لیے شام جانے کی کوشش پر ترکی سے بیدخل کیے جانے کے بعد گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر2 ملائیشین افراد کو پولیس افسران کو اغواء کرکے انہیں قتل کرنے اور عبادتی مقامات پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے پر گرفتار کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وہابی دہشت گرد اسلامی ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے امریکی منصوبے پر کام کررہے ہیں۔
ملائیشیا کی پولیس نے کہاہے کہ اس نے چھوٹے ہتھیار اسمگل کرنے اور عبادتی مقامات پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے مزید 15 دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
News ID 1881152
آپ کا تبصرہ