اہلبیت (ع) کی حقیقی نوکری سے مشکلات بر طرف اور معاشرے کو عزت و سربلندی نصیب ہوتی ہے

خبر آئی ڈی: 3935980 -
رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اہلبیت علیھم السلام کے مداحوں اور ذاکرین سے ملاقات میں فرمایا: اہلبیت (ع) کی حقیقی نوکری سے معاشرے کو عزت اور سربلندی نصیب ہوتی ہےاور سماجی مشکلات کو برطرف کرنے میں مدد ملتی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی لخت جگر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی ولادت باسعادت کے موقع پر اہلبیت علیھم السلام کے بعض مداحوں اور ذاکرین نے رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں  رہبر معظم  انقلاب اسلامی نے اہلبیت  علیھم السلام کی خدمت اور نوکری کو عزت و شرف کا باعث قراردیتے ہوئے فرمایا: اہلبیت (ع) کی حقیقی نوکری سے معاشرے کو عزت اور سربلندی نصیب ہوتی ہےاور سماجی مشکلات کو برطرف کرنے میں مدد ملتی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سیدۃ النساالعالمین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی عظمت اور شخصیت کے ادراک کو انسانی فہم سے خارج قراردیتے ہوئے فرمایا: پیغمبر اسلام (ص) کی رحلت کے بعد حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا نے سخت شرائط کا سامنا کیا جب معدود صحابہ کے علاوہ اکثر صحابہ نے حضرت علی علیہ السلام کے حق کا دفاع نہ کیا تو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا نے مسجد میں پہنچ کر تاریخی خطبہ دیا اور حق کا بھر پور دفاع کیا ۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا نے سخت ترین شرائط میں ولایت کا دفاع کیا ۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا مسلمان خواتین کے لئے کامل اور جامع نمونہ ہیں انھوں نے مادری، ہمسری اور گھریلو امور میں اسلامی کردار کے اہم نمونے پیش کئے ہیں ۔

رہبر معظم نے اللہ تعالی کی طرف سے خلقت کے اعتبار سے مرد اور عورت کے درمیان بعض جہات کو یکساں اور بعض جہات کو متفاوت قراردیتے ہوئے فرمایا: مرد اور عورت دونوں معنوی اعتبار سے اعلی کمالات تک پہنچ سکتے ہیں دونوں کے اندر رہبری اور ہدایت کی قوت اور صلاحیت موجود ہے لیکن زندگی کی مدیریت میں دونوں کی ذمہ داریوں میں فرق ہے ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: مغربی ممالک میں جو لوگ جنسی برابری اور مساوات کی ترویج کرتے تھے وہ بھی آج اپنے اس نظریہ سے پشیمان ہیں مغربی ممالک میں جنسی برابری کے نظریہ کی وجہ سے بھیانک جرائم نے جنم لیا ۔ جبکہ اسلام کا عورت کے بارے میں نظریہ الہی نظریہ ہے جس میں مرد اور عورت کی خلقت اور پیدائش کی روشنی میں دونوں کی ذمہ داریاں بعض جہات سےیکساں اور بعض جہات سے مختلف ہیں  مرد اور عورت میں قدرتی طور پر فرق پایا جاتا ہے اور اس فرق کی بنیاد پر دونوں کی ذمہ داریاں بھی بعض جہات سے مختلف ہیں اور دونوں کو ہر لحاظ سے مساوی اور برابر قراردینا بھی عدل و انصاف کے خلاف ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلام نے فرمایا: انقلاب کی کامیابی میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کے اسم مبارک اور حضرت بقیۃ اللہ کے اسم گرامی کی بدولت عوام کے دل ہمیشہ اسلامی اور انسانی جذبے سے سرشار ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اہلبیت علیھم السلام کی خدمت کو بہترین خدمت قراردیتے ہوئےفرمایا: اہلبیت کی حقیقی خدمت کے ذریعہ معاشرے کو عزت اور شرف نصیب ہوتا ہے اور مسائل و مشکلات کو برطرف کرنے میں مدد ملتی ہے اہلبیت (ع)  کا راستہ  الہی راستہ ہے اور ہمیں اس راستے پر گامزن رہنے کے لئے اللہ تعالی سے مدد طلب کرنی چاہیے کیونکہ یہی راستہ اللہ تعالی کا راستہ ہے۔

تبصرہ ارسال

2 + 16 =