مہر خبررساں ایجنسی نے ہندوستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی اور افغان صدر اشرف غنی نے امرتسر میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا مشترکہ طور پر افتتاح کیا اور دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کے معاملے پر پاکستان پر شدید تنقید کی۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق اشرف غنی نے افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا کہ افغانستان کو دہشت گردی سے لڑنے کے لیے امداد چاہیے۔ افغان صدر اشرف نے کہا کہ ’گزشتہ برس افغانستان میں ہلاکتوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی، یہ ناقابل قبول ہے، کچھ عناصر اب بھی دہشت گردوں کو پناہ دے رہے ہیں، ایک سینیئر طالبان رکن نے حال ہی میں کہا کہ اگر انہیں پاکستان میں محفوظ پناہ گاہ نہ ملتی تو وہ ایک مہینہ بھی نہیں چل سکتے‘۔انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ ’کراس بارڈر سرگرمیوں کو جانچے‘۔
کانفرنس کے افتتاح کے بعد اپنے خطاب میں ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ’ہمارا آج یہاں جمع ہونا افغانستان میں دیر پا امن اور سیاسی استحکام کے عزم کا اعادہ کرتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ چیلنجز بہت بڑے ہیں لیکن ہم ان سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ نریندر مودی نے کہا کہ دہشت گردی افغانستان اور خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے، ہمیں دہشت گردوں اور ان کے آقاؤں نمٹنا ہوگا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے ہندوستان، افغانستان اور ایران کے تعاون سے بننے والے چاہ بہار بندرگاہ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس سے افغانستان کو فائدہ پہنچے گا اور اس کی معیشت کو دنیا کے دیگر حصوں سے جوڑ دے گا۔
آپ کا تبصرہ