نائجیریا کی پارلیمنٹ کا شیعوں کے قتل عام کے بارے میں تحقیق کا اعلان

نائجیریا میں فوج کے ہاتھوں شیعہ مسلمانوں کے قتل عام پر ہونے والے عوامی احتجاجات کے بعد نائجیریا کی پارلیمنٹ نے شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کے بارے میں تحقیقات کرانے کا اعلان کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے گارڈین کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ نائجیریا میں فوج کے ہاتھوں  شیعہ مسلمانوں کے قتل عام پر ہونے والے عوامی احتجاجات کے بعد نائجیریا کی پارلیمنٹ نے شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کے بارے میں تحقیقات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور شیعہ گروہوں کے وسیع احتجاجات کے بعد نائجیریا کی پارلیمنٹ نے فوج کے ہاتھوں شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کے بارے میں تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ نائجیریا کے انسانی حقوق کمیشن نے زاریا میں شیعہ مسلمانوں کی مذہبی تقریب پر نائجیریا کی فوج کے حملے کو قتل عام قراردیا ہے۔ واضح رہے کہ نائجیریا کی فوج نے شیعہ مسلمانوں کی ایک مذہبی تقریب پر حملہ کرکے ایک ہزار سے زائد شیعوں کا قتل عام کیا جبکہ شیعہ مسلمانوں کے مذہبی رہنما شیخ ابراہیم زکزاکی کے فرزند کو بھی شہید کردیا اور شیخ زکزاکی  اور ان کی اہلیہ کو زخمی کرکے گرفتار کرلیا جس کے بعد نائجیریا میں اور عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں اورشیعہ گروہوں نے نائجیریا کی حکومت کے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس ہولناک واقعہ کی  آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

News Code 1860369

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha