اسلامی ممالک کا نیا اتحاد داعش کیخلاف معلومات کا تبادلہ کرے گا، سعودی عرب کا دعوی

سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں اسلامی ممالک کا نیا اتحاد داعش کے خلاف جنگ کے لیے معلومات کا تبادلہ کرے گا مبصرین نے سعودی عرب کی قیادت میں تشکیل پانے والے 34 اسلامی ممالک کے اتحاد کو کھوکھلا اور کمزور اتحاد قراردیا ہے کیونکہ اس اتحاد میں شامل بعض ممالک یقینی طور پر داعش کے ساتھ ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے عرب ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں دہشت گرد مخالف اسلامی ممالک کا نیا اتحاد داعش کے خلاف جنگ کے لیے معلومات کا تبادلہ کرے گا۔ عادل الجبیر نے پیرس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور امریکہ کی قیادت میں اتحاد میں شامل دوسرے خلیجی ممالک یعنی متحدہ عرب امارات ،قطر اور بحرین شام میں داعش کے خلاف جنگ کے لیے خصوصی فورسز بھیجنے پر غور کررہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اتحاد فورسز کو تربیت دے گا، انہیں مسلح کرے گا اور اگر ضروری ہوا تو فوج بھی بھیجے گا۔ سعودی عرب نے قبل ازیں منگل کے روز دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے 34 اسلامی ممالک پرمشتمل فوجی اتحاد کے قیام کا اعلان کیاتھا لیکن باخـبر ذرائع کے مطابق یمن کے خلاف سعودی عرب کی سرپرستی میں قائم پہلے اتحاد کو یمن میں زبردست شکست اور ناکامی کا سامنا ہے اور دوسری طرف سعودی عرب خود داعش دہشت گردوں کی سرپرستی اور انھیں بڑے پیمانے پر ہتھیار فراہم کررہا ہے، سعودی عرب، قطر ، ترکی ، امریکہ اور اسرائیل ان ممالک میں شامل ہیں جنھوں نے داعش کی تشکیل اور داعش کو جنگی اور مالی وسائل فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے لہذا سعودی عرب کی قیادت میں تشکیل پانے والے 34 اسلامی ممالک کے اتحاد کو کھوکھلا اور کمزور اتحاد قراردیا جارہا ہے ۔کیونکہ اس اتحاد میں شامل بعض ممالک یقینی طور پر داعش کے ساتھ ہیں۔

News Code 1860337

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 7 =