مہر خبررساں ایجنسی نے فلسطین الیوم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے فلسطینی اکثریتی گاؤں العراقیب کو ایک بار پھر مسمار کردیا ہے جس کے باعث وہاں سے بے گھر ہونے والے ہزاروں فلسطینی قبرستان میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل جارحیت پر عرب حکمراں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہودی فوجیوں کی سکیورٹی میں بلڈوزروں نے العراقیب پر چڑھائی کی اور گھروں میں موجود مردوں کے کام کاج پر چلے جانے کے بعد گاؤں کو مکمل طور پر منہدم کردیا ، مویشیوں کی حفاظت کیلیے بنائے گئے شیلٹر بھی اسرائیلی فوجیوں نے مسمار کر دیئے، صہیونی فوجیوں نے قصبے کی مکمل ناکہ بندی کرنے کے بعد کچے گھروں، خیموں اور شیلٹروں میں رہنے والے فلسطینیوں کو گھسیٹ کر باہر نکالا اور مکانات کو گرانا شروع کردیا۔ ادھر داعش دہشت گرد اسرائیل کے تعاون سے ان شام و عراق میں عدم استحکام پیدا کررہے ہیں اگر داعشی مسلمان ہوتے تو انھیں سب سے پہلے فلسطینی مسلمانوں کی حمایت اور اسرائیل کے خلاف اپنے ہتھیاروں کو استعمال کرنا چاہیے تھا لیکن ان کو ہتھیار امریکہ و اسرائیل نے اس لئے دیئے ہیں کہ وہ نا ہتھیاروں کو عراق و شام میں مسلمانوں کے خلاف استعمال کریں اسرائیل اور داعشی سلفی دہشت گرد دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔
مہر نیوز/ 16 جنوری / 2015 ء : اسرائیلی فوج نے فلسطینی اکثریتی گاؤں العراقیب کو ایک بار پھر مسمار کردیا ہے جس کے باعث وہاں سے بے گھر ہونے والے ہزاروں فلسطینی قبرستان میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل جارحیت پر عرب حکمراں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
News ID 1848294
آپ کا تبصرہ