مہر خبررساں ایجنسی نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے اور پیپلز پارٹی کے موجودہ سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان کی طالبان نوازحکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ آج ملک میں جہالت کے اندھیرے اتنے بڑھ گئے ہیں کہ پاکستان کی موجودہ اور طالبان نواز حکومت مذاکرات کے نام پر اندھوں سے راستہ پوچھ رہی ہے۔مذاکرات کرنے والوں نے پہلے بھی دھوکہ دیا اور اب بھی دھوکا دیا جارہا ہے لیکن دہشت گرد سن لیں ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ ابھی زندہ ہے۔گڑھی خدا بخش میں پاکستان پیپلزپارٹی کےبانی اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی 35 ویں برسی کے موقع پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے بلال بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کے صوبہ پنجاب کو دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال بنتے ہوئے دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں اگر ذوالفقار علی بھٹو ہوتے تو یہ حال نہ ہوتا اور یہی وجہ ہے کہ اس سورج کو بجھا دیا گیا جس کا مقصد ہمیں اندھیروں میں رکھنا تھا۔ جہالت کے اندھیرے آج اتنے بڑھ چکے ہیں کہ آنکھوں والے مذاکرات کے نام پر اندھوں سے راستہ پوچھ رہے ہیں۔ ہمیں جہالت کے اندھیروں کی نہیں بلکہ روشنی کی ضرورت ہے آج پاکستان کو پھر ایک بھٹو کی ضرورت ہے۔ مذاکرات کرنے والوں نے پہلے بھی دھوکہ دیا اور اب بھی دھوکہ دیا جارہا ہے لیکن دہشت گرد سن لیں ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ ابھی زندہ ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج ہم تاریخ کے اس موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ہر طرف بے یقینی ہے۔ ایک طرف دہشت گرد ہیں جو ہم سے ہماری شناخت پہنچان اور ہمارا وجود تک چھین لینا چاہتے ہیں، دوسری طرف ہماری تہذیب اور معیشت دم توڑ رہی ہے جب کہ سیاست ذاتی مفادات تک محدود ہوچکی ہے، ہم نے کونسی غلطی کی ہے کہ تاریخ ہمیں معاف کرنے کے لئے تیار ہی نہیں، ہمارا جرم صرف یہ ہے کہ ہمارے عظیم لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا اور 35 سال پہلے ہم اس سورج سے محروم ہوگئے جو قوم کو روشنی فراہم کررہا تھا۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو ایک وجود نہیں بلکہ ایک فلسفہ تھا، ایک طرف وہ تھے جو پاکستان کے مخالف تھے اور دوسری طرف ذوالفقار علی بھٹو تھے جو روشنی کی علامت تھے جس کی ایک آواز پر پوری قوم ایک ہو کر دنیا میں جینا چاہتی تھی لیکن ہمارے نام نہاد منصفوں نے انہیں پھانسی پر لٹکا دیا، وہ انسان غریب کا سہارا اور سرمایہ داروں کے ظلم کی چکی میں پسنے والے مزدوروں کی آواز تھا۔ وہ تھا تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت کی بھی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں تھی۔ انہوں نے پاکستان کو ناقابل تسخیر بنا دیا۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آکر آصف زرداری کا گیس پائپ لائن منصوبہ ختم کر دیا، زرداری نے غیر ملکی پریشر میں آئے بغیر گیس پائپ لائن منصوبہ شروع کیا، پاکستان کی قیمت 1.5ارب ڈالر لگائی جاتی ہے اور قوم کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا، حکومت کی نیت صاف تھی تو قوم کو کیوں نہیں بتایا گیا۔ بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ کیا یہ قیمت ملک کے جوانوں کی سرکی قیمت ہے؟ ہماری فوج غیرت مند فوج اور سرمایہ ہے کسی کی جاگیر نہیں، ہماری اپنی جنگ ختم نہیں ہوئی اور آپ دوسروں کی جنگ میں چھلانگ لگانے جارہے ہیں۔ بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ آصف زرداری کو 11سال قید میں رکھ کر اس کا عزم چھیننے کی کوشش کی گئی، آصف زرداری کاعزم چھیننے والے اس کی مسکراہٹ بھی نہیں چھین سکے، بھٹوکھپے کامطلب جانناہے توبینظیربھٹواورآصف زرداری کودیکھو۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اسلام کے نام پراپنی دہشت کا قانون نافذکرناچاہتے ہیں، ان لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ اسلام نہیں ہے، تباہی مچاکر جنت کی حوریں لینا چاہتے ہیں، وہ انہیں نہیں ملیں گی، جاگ میرا پنجاب جاگ، پاکستان جل رہا ہے، انہیں خبردار کرتا ہوں جو اپنے صوبے میں دہشت گردوں کو سیاست کے نام پر پناہ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جوزف کالونی میں چرچ کوآگ لگادی جاتی ہے اور ایک شخص گرفتار نہیں ہوتا، سندھ میں کسی دہشت گرد کو اجازت نہیں کہ مذہب اور نسل کے نام پر فساد پھیلائے، بلاول بھٹوزر داری اور اس کے جیالے دہشت گردوں کی خلاف چٹان کی طرح کھڑے ہیں، پاکستان پیپلزپارٹی اقلیتوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی، اس ملک میں ظالمان کا نظام نافذہوگیا تو سندھ میں بیٹیاں زندہ دفن ہوں گی، دہشت گرد درندے ہیں مسلمان نہیں۔انھوں نے کہا کہ طالبان ظالمان ہیں اور یہ پاکستانی قوم کو اسلام کے نام پر قبل از اسلام کےعرب جاہلیت دور کی طرف لے جارہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ