29 ستمبر، 2013، 10:40 AM

پاکستان میں 226 ہندوستانی خواتین مصیبت کا شکار

پاکستان میں 226 ہندوستانی خواتین مصیبت کا شکار

مہر نیوز/ 29 ستمبر/2013ء: ہندوستانی اخبار”ٹائمز آف انڈیا“ کے مطابق پاکستانی شہریوں کے ساتھ ناکام شادیوں کے بعد 226 ہندوستانی خواتین مصیبت کا شکار ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ہندوستانی اخبار”ٹائمز آف انڈیا“ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستانی شہریوں کے ساتھ ناکام شادیوں کے بعد 226 ہندوستانی خواتین مصیبت کا شکار ہیں۔سرحد پار شادیاں او رخاص کر پاکستانی اور بھارتی شہریوں کے درمیان رشتہ ازدواج کوئی جنت نظیر نمونہ لے کر نہیں آتا ۔اخبار نے اسپیشل برانچ کے پاکستان اور بنگلہ دیش سیل ( پی بی سی) سے حاصل کردہ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ پاکستانی شہری جنہوں نے  ہندوستانی خواتین سے شادی کی مگر ہندوستانی شہریت حاصل کرنے میں ناکام رہے، تاہم اپنی شادی کی ناکامی کے فوری بعد وہ اپنے آبائی وطن یا شہر کو واپس لوٹ گئے۔ ایسے جوڑے اپنی شادی کی ناکامی اور اس کے بعد پیدا ہونے والے مسائل کی وجہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو سمجھتے ہیں اور وہ خاندان یا دوستوں میں سے کسی بھی قسم کی مدد یا حمایت سے محروم رہتے ہیں۔ایسے افراد میں سے طلا ق یا میاں بیوی میں سے کسی کی بے وقت موت انہیں اپنے ملک واپس جانے پر مجبور کردیتی ہے۔ان میں سے چھ ہندو خواتین بھی اپنے وطن واپس لوٹ گئیں۔ کئی معاملات میں ان کے سسرال والے ان کا ساتھ دینے یا مدد کرنے سے انکار دیتے ہیں ،جس کی وجہ سے وہ ذہنی اور جسمانی صدمات کا شکار ہوجاتی ہیں۔ ہندوستانی شہر حیدر آباد کی ایک خاتون ہنگامہ خیز تعلقات کے بعد 2006میں پاکستانی شوہرسے رشتہ ختم کرکے اپنے چار بچوں کے ساتھ آبائی شہر میں رہنے پر مجبور ہیں تاہم علیحدگی کے صدمے نے اسے نفیساتی مریض بنا دیا جس کاوہ باقاعدہ علاج کرا رہی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ ازدواجی رشتے کے خاتمے کے بعد ایسی خواتین کے پاس اپنے آبائی شہروں کو جانے کےسوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ ہندوستانی قوانین اتنے سخت ہیں کہ شہریت دوبارہ ملنا مشکل ہوجاتا ہے۔ انہی مسائل کی وجہ سے کئی افراد ہندوستان آمد کے بعد طویل المدتی ویزے  پر رہ رہے ہیں۔پی بی سی حکام کے مطابق ، ہندوستانی شہریت ان کو دی جاتی ہے جو مسلسل سات سال تک ہندوستان میں رہائش رکھتے ہیں۔شہریت کی درخواست پی بی سی کو جیسے ہی ملتی ہے وہ اسے وزارت خارجہ  کو بھیج دیتی ہے۔ پی بی سی کے افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اخبار کو بتایا کہ شہریت دینا وزارت خارجہ کا صوابدیدی اختیار ہے۔ بڑھاپے اور بیماری کے حامل چار ایسے کیسز ہیں جنہیں ابھی ہندوستانی شہریت دینا ہے، تاہم حکومت ان کی حالت زار کو سمجھتی ہوئے انہیں طویل مدتی ویزے پر رہنے کی اجازت دیتی ہے۔ زیادہ تر ایسی خواتین پرانے شہر میں یا ارد گرد رہائش پذیر ہیں۔بھارتی حکام نے اس بات کی نشاندہی کی کہ روزانہ حیدرآباد میں 5سے 10پاکستانی آتے ہیں، تاہم 14 دنوں سے زیادہ رہنے کا ارادہ رکھنے والے لوگوں کو ہی پی بی سی کے پاس رجسٹر کرانا ضروری ہے۔

News ID 1828500

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha