امریکہ نواز عرب ڈکٹیٹر حکمراں حقوق انسانی اور جمہوریت کے دشمن ہیں

امریکہ نواز عرب ممالک میں نہ جمہوریت ہے اور نہ ہی وہ حقوق انسانی کا پاس و لحاظ رکھتے ہیں عرب ڈکٹیٹروں کی حمایت سے جمہوریت اور حقوق انسانی کی امریکی حمایت کی قلعی کھل گئی ہے امریکہ کی طرف سے عرب ڈکٹیٹروں کی حمایت سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ نہ جمہوریت کا حامی ہے اور نہ ہی حقوق انسانی کے ساتھ اسے کوئی ہمدردی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نواز عرب ممالک میں نہ جمہوریت ہے اور نہ ہی وہ حقوق انسانی کا پاس و لحاظ رکھتے ہیں ان عرب ڈکٹیٹروں کی حمایت سے امریکہ کی طرف سے جمہوریت اور حقوق انسانی  کی حمایت کی قلعی کھل گئی ہے امریکہ کی طرف سے عرب ڈکٹیٹروں کی حمایت سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ نہ جمہوریت کا حامی ہے اور نہ ہی حقوق انسانی کے ساتھ اسے کوئی ہمدردی ہے۔ اس کی زندہ مثال امریکہ کی یمن اور بحرین اور سعودی عرب کے عرب ڈکٹیٹر حکمرانوں کی حمایت ہیں جہاں امریکہ کے اشارے پر انسانی حقوق پامال کئے جارہے ہیں  جہاں جمہوریت کا کوئی نام و نشاں نہیں ہے۔بحرین میں ایک فوجی عدالت نے چار افراد کو مظاہروں میں شرکت کے الزام میں موت کی سزا سنائی ہے۔فوجی عدالت نے اسی معاملے میں تین مزید افراد کو عمر قید کی سزا بھی دی ہے۔ساتوں افراد کی عدالتی کارروائی مخفی رکھی گئی تھی جن پر فرضی طور پرحکومت کے ملازمین کو قتل کرنے کا مقدمہ چلایا گیا تھا۔حقوقِ انسانی کی تنظیموں کے مطابق ان افراد کو قانونی مدد حاصل نہیں تھی اور انہیں ان کے اہل خانہ سے بھی ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ مظاہروں کے دوران سینکڑوں لوگوں کو حراست میں لیا گیا تھا جن میں سے بعض اپنے خاندان کے ساتھ بھی رابطہ نہیں کرسکتے۔ مظاہروں کے دوران سینکڑوں لوگوں کو حراست میں لیا گیا تھا جن میں سے بعض اپنے خاندان کے ساتھ بھی رابطہ نہیں کرسکتے۔

مارچ میں بحرین میں مارشل لاء کے نفاذ کے بعد اس مقدمے کا اعلان پہلی بار ہوا تھا۔ احتجاجی مظاہروں کے بعد سے اب تک بحرین میں تقریبا تیس افرادشہید  ہوچکے ہیں۔ ان میں چار پولیس کی حراست میں شہید کئے ہیں ہوئے۔  500 سےزائد افراد جیل میں بند ہیں جن میں 80 خواتین بھی شامل ہیںذرائع کے مطابق بحرین ان مظاہروں کے لیے ایران پربے بنیادالزامعائد کرتا ہے۔ لیکن تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بحرین میں حکمراں اقلیتی وہابی طبقے اور اکثریتی شیعہ طبقے میں کشیدگی بہت پہلے سے پائی جاتی ہے اور یہی مظاہروں کی اصل وجہ ہے۔

News Code 1300309

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 4 =