14 فروری، 2011، 4:50 PM

احمدی نژاد، عبد اللہ گل

ایران اور ترکی علاقہ کو اقتصادی اور سیاسی قطب میں تبدیل کرسکتے ہیں

ایران اور ترکی علاقہ کو اقتصادی اور سیاسی قطب میں تبدیل کرسکتے ہیں

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے عالمی اور علاقائی امن و سلامتی کے حوالے سے ایران اور ترکی کے مشترکہ نظریات کو عالمی اور علاقائی امن و صلح کے لئے اہم قراردیتے ہوئےکہا کہ ایران اور ترکی باہمی تعاون کے ذریعہ علاقہ کو اقتصادی ، ثقافتی اور سیاسی قطب میں بدل سکتے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے صدارتی سائٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر احمدی نژاد اور ترکی کے صدر عبد اللہ گل نےخصوصی مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر احمدی نژادنے عالمی اور علاقائی امن و سلامتی کے حوالے سے ایران اور  ترکی کے مشترکہ نظریات کو عالمی اور علاقائی امن و صلح کے لئے اہم قراردیتے ہوئےکہا کہ ایران اور ترکی باہمی تعاون کے ذریعہ علاقہ کو اقتصادی ، ثقافتی اور سیاسی قطب میں بدل سکتے ہیں۔ صدر احمدی نژاد نے دونوں ممالک کے باہمی روابط کو برادرانہ ، دوستانہ ، عمیق اور پائدار قراردیتے ہوئے کہا کہ ایران اور ترکی کے درمیان باہمی تجارت کا حجم گذشتہ برس 10 ارب ڈالر سے بڑھ گیا ہے اور دونوں ممالک اقتصادی تعاون کوسرعت کے ساتھ 30 ارب ڈالر تک پہنچانےپر پختہ عزم کئے ہوئے ہیں ۔ صدر احمدی نژاد نے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام پر ترکی کی حمایت اوراستنبول میں  گروپ 1+5 کی کانفرنس منعقد کرنے پر ترکی کے صدر کا شکریہ ادا کیا۔ صدر احمدی نژاد نے کہا کہ ترکی کے ساتھ تمام شعبوں میں روابط کو فروغ دینے میں کوئی رکاوٹ موجود نہیں ہے انھوں نے کہا کہ ترکی ایک اہم اسلامی ملک ہے اور عالم اسلام کو درپیش مسائل حل کرنے میں اہم نقش ایفا کرسکتا ہے۔

اس کانفرنس میں ترکی کے صدر عبد اللہ گل نے ترکی اور ایران کو دوست اور برادر ملک قراردیتے ہوئےکہا کہ دونوں ممالک ہمسایہ اور قدیم تاریخ و تمدن کے وارث ہیں دونوں ممالک کی طویل مشترکہ سرحد ہے جو 1630 ء سے لیکر اب تک سب سے زيادہ باثبات سرحد ہے اور دنیا میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ عبد اللہ گل نے علاقائی حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب حکام اپنی قوم کی آواز اور مطالبات پر توجہ نہیں دیتے تو پھر قوم خود میدان میں وارد ہوجاتی ہے اور ہماری یہ آرزو ہے کہ علاقائی حکام عوام کے مطالبات پر خصوصی توجہ دیں۔

News ID 1253887

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha