مہر خبررساں ایجنسی نے الجزیرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ فلسطینی عوام اور حکام نے اسرائیلی حکومت کی اس پیشکش کو مسترد کر دیا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ اگر فلسطینی اسرائیل کو ایک یہودی ریاست کے طور پر تسلیم کر لیں تو یہودی بستیوں کی تعمیر روک دی جائے گی۔ ماضی میں فلسطینیوں کا یہ موقف رہا ہے کہ اگر وہ اسرائیل کو ایک یہودی ریاست کے طور پر تسلیم کر لیں تو اس سے اسرائیل میں رہنے والے ان بیس فیصد لوگوں کی حق تلفی ہو گی جو یہودی نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ ان فلسطینی پناہ گزینوں کا یہ حق بھی ختم ہو جائے گا کہ وہ اسرائیل واپس جا سکیں۔ اسرائیل کی جانب سے یہودی بستیوں کی تعمیر پر عارضی پابندی میں توسیع سے انکار کے بعد فلسطینیوں نے امریکی حمایت سے ہونے والے ان مذاکرات کو جاری رکھنے سے انکار کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل نے ہمیشہ عربوں کو دھوکہ دیا ہے اور عربوں نے بھی ہمیشہ اسرائیل اور امریکہ سے دھوکہ کھایا ہے۔ اسلامی مبصرین کا کہنا ہے کہ عرب رہنما اسلام اور مسلمانوں کو درپیس مسائل اور چیلنجوں کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں اور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ عرب رہنما اسلامی اصولوں کے پابند نہیں ہیں جن میں اسلام اور مسلمانوں کی حمایت پر تاکید کی گئی ہے بلکہ عرب رہنما عراق اور افغانستان کے معاملے میں امریکہ کا کھل کر ساتھ دے رہے ہیں اور عراق و افغانستان میں امریکہ کے ہاتھوں قتل ہونے والے مسلمانوں کے خون میں عرب رہنماؤں کا ہاتھ بھی نمایاں طور پر موجود ہے۔
فلسطین
فلسطینیوں نے یہودی ریاست کے قیام کے اسرائیلی مطالبہ کو مسترد کردیا ہے
فلسطینی عوام اور حکام نے اسرائیلی حکومت کی اس پیشکش کو مسترد کر دیا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ اگر فلسطینی اسرائیل کو ایک یہودی ریاست کے طور پر تسلیم کر لیں تو یہودی بستیوں کی تعمیر روک دی جائے گی۔
News ID 1169410
آپ کا تبصرہ