مہر خبررساں ایجنسی نے فارن پالیسی جریدے کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکی صدر نے عراق کے روحانی پیشوا آیت اللہ سیدعلی سیستانی کو خط لکھا ہے جس میں ان سے اپیل کی ہے کہ وہ عراق میں سیاسی بحران کے خاتمے اور نئی حکومت کی تشکیل میں سیاسی جماعتوں پر دبا ڈالیں۔ جریدے کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے آیت اللہ سیستانی کو مداخلت کے لیے یہ خط نائب امریکی صدر جوبائیڈن کی عراق میں حکومت کی تشکیل کی کوششوں کی ناکامی کے بعد لکھا ہے۔ جوبائیڈن گذشتہ ماہ چار جولائی کو عراق کے مختصر دوے پر گئے تھے جہاں انہوں نے مختلف سیاسی دھڑوں سے ملک میں حکومت کی تشکیل کے حوالے سے بات چیت کی تھی تاہم ان کی حکومت کی تشکیل کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔رپورٹ کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے سیستانی کو ایک ایسے وقت میں مراسلہ بھیجا گیاہے جبکہ عراق کے مختلف سیاسی اتحاد پانچ ماہ قبل ہونے والے انتخابات میں وزیراعظم کے عہدے کے لیے کسی ایک نام پر متفق نہیں ہو سکے۔ واضح رہے کہ آیت اللہ سیستانی نے عراق پر2003 میں کیے گئے امریکی حملے کے بعد کسی امریکی عہدیدار سے ملاقات نہیں کرتے ہیں ۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ عراق کی حکومت کی تشکیل میں خزد امریکی مشکلات پیدا کررہے ہیں اور عراقی امور امریکی مداخلت واضح طور پر نمایاں ہے۔
آپ کا تبصرہ