مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں عالمی امدادی کانفرنس کا آغاز ہوگیا ہے۔ کانفرنس کا افتتاح افغانستان کے صدر حامد کرزائی نے کیا۔ اس میں افغانستان کے مستقبل اور تعمیر نو کے علاوہ اگلے چار سال میں سیکیورٹی کی ذمہ داریاں مکمل طورپر افغان فورسز کے حوالے کرنے کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔کابل میں ہونے والے اجلاس کی صدارت افغان صدر حامد کرزئی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون مشترکہ طورپر کریں گے۔ اس موقع پر دہشت گردی کی کسی بھی ممکنہ کارروائی سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں ۔اور نیٹو اور افغان سیکیورٹی فورسز کے ہزاروں اہلکاروں کو تعینات کردیا گیاے۔ جبکہ دارالحکومت میں دودنوں کی عام تعطیل کا اعلان بھی کیا گیا۔اجلاس میں شرکت کے لیے ایرانی وزير خارجہ کل کابل پہنچے جہاں انھوں نے افغانستان کے وزير خارجہ اور افغان صدر کے ساتھ مذاکرات انجام دیئے۔ اجلاس میں 70 بین الاقوامی نمائندوں سمیت 40 غیر ملکی وزرائے خارجہ کی شرکت متوقع ہے۔اور 1000 نامہ نگار اس اجلاس کی خبر نشر کرنے کے لئے اجلاس میں موجود ہیں۔ ایرانی وزير خارجہ نے کہا ہے کہ وہ اس اجلاس میں افغانستان کو درپیش مشکلات کے حل کے لئے جامع تجاویز پیش کریں گے انھوں نے کہا کہ غیر ملکی افواج کا افغانستان پر تسلط افغانستان کی مشکلات کا اصلی سبب ہے۔
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں عالمی امدادی کانفرنس کا آغاز ہوگیا ہے۔
News ID 1120043
آپ کا تبصرہ