مہر خبررساں ایجنسی نے عرب ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ غزہ میں اتوار کی رات کواسرائیلی کارروائی جاری رہی جہاں اسرائیلی پیدل فوج اور طاقتور بکتر بند گاڑیوں کی گولہ باری اور فائرنگ میں 21 فلسطینی بچے شہید ہوگئے ہیں ۔ انسانی حقوق کے علمبردار المیہ کے بعد رسوا ہوگئے ہیں، غزہ کے مظلوم فلسطینی مسلمانوں کے خلاف عربی اور مغربی شیاطین ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے ہیں۔
فائرنگ کرکےعملاً غزہ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔اسرائیل کے زمینی حملے میں 70 سے زائد افراد شہید ہوگئے ہیں جن میں زیادہ تر شہری اور بچے شامل ہیں اب تک تقریبا 100 کے قریب فلسطینی بچے شہید ہوچکے ہیں
فلسطینی محکمہ صحت نے کہا ہے کہ 9 روز قبل شروع ہونے والی اسرائیلی کارروائی کے بعد پانچ سو دس فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔اس کے مطابق زمینی کارروائی شروع ہونے کے بعد اکہتر لوگ ہوئے ہیں جن میں اکیس بچے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حملے میں اب تک 2600 فلسطینی زخمی ہوگئےہیں اسرائیل کے حملے جاری ہیں اور شہداء اور زخمیوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔امریکہ نے اسرائیلی حملوں کی حمایت کررہا ہے اور عرب حکمراں بھی اسرائیل کا ساتھ دے رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ