مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صوبۂ مرکزی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر دشمن آج دو یا تین اہداف کو نشانہ بناتا ہے تو ایران 20 مقامات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے موجودہ صورتحال کو ایک کثیرالجہتی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں سیاسی، اقتصادی، سماجی، ٹیکنالوجی، فوجی اور میڈیا کے محاذ بیک وقت فعال ہیں۔
جنرل محبی نے کہا کہ آج کی جنگ میں صرف فوجی نقصان پہنچانا مقصد نہیں، بلکہ دشمن عوام کے افکار، اعتماد اور فیصلوں پر اثرانداز ہو کر ان کے حوصلے کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔ اسی لیے میڈیا بھی جنگ کا ایک اہم میدان بن چکا ہے۔
سپاہ پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، ڈرونز، جدید سینسرز اور کمانڈ سسٹمز نے جنگ کی رفتار بدل دی ہے اور ہدف کی نشاندہی سے کاروائی تک کا وقت انتہائی کم کر دیا ہے۔ دوسری جانب علاقائی کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کے نئے علاقائی معادلات میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے بارے میں کسی بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کرے گا۔
انہوں موجودہ حالات میں میڈیا کی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج میڈیا کی ذمہ داری صرف خبر پہنچانا نہیں، بلکہ درست حقائق، ملکی دفاعی و سائنسی صلاحیتوں اور عوامی اتحاد کو مؤثر انداز میں پیش کرنا بھی ہے۔
آپ کا تبصرہ