مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایک صہیونی میڈیا ادارے نے لبنان کے ساتھ طے پانے والے فریم ورک معاہدے کو خطرناک فریب قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ تل ابیب کی موجودہ صورتِ حال انتہائی خراب ہے اور امریکہ کے دباؤ پر کیے گئے معاہدوں سے اسرائیل کو کوئی حقیقی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔
تفصیلات کے مطابق، صہیونی ویب سائٹ زمان نے امریکہ کی ثالثی میں لبنان کے ساتھ ہونے والے فریم ورک معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ معاہدہ ایک ایسا فریب ہے جو بالآخر اسرائیل ہی کے منہ پر پھٹنے والا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی حکومت صہیونی حکومت اور لبنان کے درمیان معاہدہ کرانے کی شدید خواہش مند تھی تاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک اور سیاسی کامیابی کا جشن منانے کا موقع مل سکے۔
ویب سائٹ نے مزید لکھا کہ لبنان کے ساتھ یہ معاہدہ بھی غزہ میں ہوٹلوں اور کیسینو کے قیام یا ایران کو ایٹمی ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائلوں سے محروم کرنے سے متعلق ٹرمپ کے دعوے کی طرح ایک خوش فہم تصور ہے۔
رپورٹ میں اسرائیل کی موجودہ صورت حال کو انتہائی خراب قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ تل ابیب اس معاہدے سے کچھ بھی حاصل نہیں کر سکا، کیونکہ تمام سمجھوتے واشنگٹن کے دباؤ کے تحت کیے گئے، جو مشرق وسطی کی مسلسل کشیدگی سے تنگ آ چکا ہے۔
صہیونی میڈیا نے مزید اعتراف کیا کہ اسرائیل اس وقت نہایت کمزور پوزیشن میں ہے اور امریکہ نے تل ابیب پر ایسے معاہدے مسلط کیے ہیں جن کی حیثیت اس کاغذ سے بھی زیادہ نہیں جس پر وہ تحریر کیے گئے ہیں۔
آپ کا تبصرہ