مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صوبہ اردبیل میں رہبر انقلاب کے نمائندے اور امام جمعہ آیت اللہ سید حسن عاملی نے خطبہ جمعہ میں جنگ رمضان میں امریکہ کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے اس جنگ میں امریکہ کو سخت ضربیں لگائی ہیں، تاہم سب سے بڑی ضرب شاید یہ تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو خالی ہاتھ اور بغیر کسی کامیابی کے چین روانہ کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کسی متکبر کے غرور کو توڑنا سب سے بڑی عبادات میں سے ہے اور موجودہ دنیا میں طاقت ہی فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ اگر آپ طاقتور نہ ہوں تو آپ کو روند دیا جاتا ہے۔
آیت اللہ عاملی نے کہا کہ ٹرمپ نے اپنا آخری حربہ بھی استعمال کر لیا، لیکن اس کے باوجود وہ ناکام واپس لوٹا، جبکہ آبنائے ہرمز اب اس کے لیے وقار اور عزت کا مسئلہ بن چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ اس وقت مکمل طور پر بے بس اور پریشان ہے اور صرف باعزت راستہ تلاش کر رہا ہے۔ ان کے بقول، امریکہ کی یہ کمزوری ایران کے لیے ایک غیر معمولی موقع ہے۔
امام جمعہ اردبیل نے مذاکراتی ٹیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں ذرہ برابر بھی پسپائی اختیار نہ کریں، کیونکہ عوام کی حیران کن اور بھرپور پشت پناہی نے حکومت پر حجت تمام کر دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قوم کی استقامت، صبر، مشکلات برداشت کرنے کی صلاحیت اور میدان میں بھرپور موجودگی انتہائی ضروری ہے۔ ان کے بقول، آج کی مختصر مدت کی مزاحمت مستقبل کی دائمی کامیابی کے برابر ہے۔
آیت اللہ عاملی نے کہا کہ اگر عوام اپنی اس مزاحمتی جدوجہد اور میدان میں موجودگی کو کچھ عرصہ مزید جاری رکھیں تو عالمی معیشت دھماکے کے دہانے پر پہنچ سکتی ہے۔
انہوں نے تاجروں، دکانداروں اور صنعت کاروں سے اپیل کی کہ وہ شہداء کے خون، معصوم بچوں اور یتیم ہونے والے بچوں کے غم کو نظر انداز نہ کریں اور منافع خوری سے باز رہیں۔
آپ کا تبصرہ