12 مئی، 2026، 10:42 AM

آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی مسودہ اصل مسئلے کو بدلنے کی کوشش ہے، کاظم غریب آبادی

آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی مسودہ اصل مسئلے کو بدلنے کی کوشش ہے، کاظم غریب آبادی

ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز کے بارے میں امریکی مسودہ دراصل فوجی جارحیت اور غیر قانونی محاصرے کے نتائج کو ایک نئے رخ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ امریکہ اور اس کے بعض علاقائی اتحادیوں کی جانب سے سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے مسودہ پیش کرنے کی کوشش دراصل اصل مسئلے کو تبدیل کرنے کی ایک نئی کوشش ہے، جس کے تحت فوجی جارحیت اور غیر قانونی محاصرے کے نتائج کو اس ملک کے خلاف مقدمے میں تبدیل کیا جا رہا ہے جو دھمکیوں، دباؤ اور حملوں کا ہدف بنا ہوا ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جہاز رانی کی آزادی ایک قابل احترام قانونی اصول ہے لیکن اسے منتخب انداز میں، سیاسی مقاصد کے لیے یا اقوام متحدہ کے منشور سے الگ کر کے نہیں دیکھا جاسکتا۔

غریب آبادی نے کہا کہ اگر سمندری سلامتی کے اقدامات میں طاقت کے استعمال، بحری محاصرے اور امریکہ و صہیونی حکومت کے کردار کو نظر انداز کیا جائے تو ایسے اقدامات کو غیر جانبدار یا قانونی نہیں کہا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ صرف جہازوں کی آمد و رفت نہیں بلکہ یہ ہے کہ بعض حکومتیں اپنی غیر قانونی کارروائیوں کے نتائج کو بین الاقوامی نظام کی زبان میں دوبارہ بیان کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، اور ایسا طرز عمل نہ کشیدگی کم کرنے میں مدد دیتا ہے، نہ سمندری سلامتی کو بہتر بناتا ہے اور نہ ہی کثیرالجہتی نظام کی ساکھ کو مضبوط کرتا ہے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ کوئی بھی متن جو آبنائے ہرمز کی صورتحال کو فوجی جارحیت، بحری محاصرے، طاقت کی دھمکی اور ایران کے اپنے حیاتیاتی مفادات اور سلامتی کے دفاع کے جائز حقوق کا ذکر کیے بغیر بیان کرے گا، وہ ابتدا ہی سے نامکمل، جانبدارانہ، سیاسی اور ناکامی سے دوچار ہوگا۔

News ID 1939248

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha