مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے منگل کے روز تہران میں روس کے وزیر توانائی سرگئی سیویلیف سے ملاقات کے دوران کہا کہ مغربی ممالک کی جانب سے گزشتہ برسوں میں عائد کی جانے والی پابندیاں اور دباؤ ایران اور روس کے اسٹریٹجک تعلقات کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور روس دونوں کو حالیہ برسوں میں مغرب کی طرف سے یکساں دباؤ اور پابندیوں کا سامنا رہا ہے، تاہم یہ اقدامات دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکے۔
روسی وزیر نے اپنی گفتگو میں روسی خارجہ پالیسی میں ایران کے اسٹریٹجک مقام پر زور دیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی مذاکرات اور تعاون کے ماحول کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماسکو مختلف شعبوں خصوصاً معیشت اور توانائی کے میدان میں تہران کی حمایت جاری رکھے گا۔
سرگئی سیویلیف نے دوطرفہ معاہدوں پر عملدرآمد کے حوالے سے علی لاریجانی کی مفصل اور باریک بینی سے کی جانے والی گفتگو کو سراہا اور کہا کہ معاہدوں پر تیز رفتار عملدرآمد کے لیے قریبی رابطے اور ہم آہنگی کا تسلسل ضروری ہے۔
علی لاریجانی نے ایران اور روس کے تعلقات کو نہایت اعلیٰ سطح کا قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون معمول کے تعلقات سے کہیں بڑھ کر ہے۔ انہوں نے دوبارہ واضح کیا کہ مغربی دباؤ اور پابندیاں اسٹریٹجک شراکت داری کے سفر کو نہیں روک سکیں۔
انہوں نے دونوں ممالک کی قیادت کے باہمی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مشترکہ منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے انتظامی رکاوٹیں دور کی جائیں اور سرکاری طریقہ کار کو آسان بنایا جائے۔
آپ کا تبصرہ