17 فروری، 2026، 9:43 AM

رہبر معظم کی حکمت عملی اور مضبوط موقف نے امریکہ کو عقب نشینی پر مجبور کیا، حزب اللہ

رہبر معظم کی حکمت عملی اور مضبوط موقف نے امریکہ کو عقب نشینی پر مجبور کیا، حزب اللہ

لبنانی تنظیم حزب اللہ نے کہا ہے کہ امریکی جارحیت اور دباو کے بعد رہبر معظم نے اپنی حکمت عملی اور مضبوط موقف سے ٹرمپ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب‌الله کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ اور لبنانی پارلیمنٹ کے رکن ابراہیم الموسوی نے کہا ہے کہ ایران کی دفاعی طاقت اور رہبرِ انقلاب سید علی خامنه‌ای کے غیر متزلزل مؤقف نے امریکہ کو پسپائی پر مجبور کیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی دعوے کے مطابق مزاحمت شکست کھاچکی ہے تو پھر وہ مسلسل ہمارے ہتھیاروں کے بارے میں مذاکرات کے لیے اپنے نمائندے کیوں بھیجتے ہیں۔ اگر دشمن مزاحمت کو ختم کرنے کی طاقت رکھتا تو اب تک یہ کام کرچکا ہوتا، لیکن وہ ایسا کرنے سے قاصر ہے۔

ابراہیم الموسوی نے ایران کے خلاف امریکی دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوری ایران کی طاقت اور استقامت، اور رہبر انقلاب کا مضبوط اور غیر متزلزل مؤقف، وہ عنصر تھا جس نے امریکیوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔ ایران اب بھی طاقتور اور ہر قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب لبنانی پارلیمنٹ میں تنظیم کے نمائندے علی فیاض نے کہا کہ لبنانی حکومت کو قومی مفاد، عوامی وحدت اور ملک کے استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ حالات میں محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ صہیونی حکومت کو مفت رعایتیں دینے سے اس کی گستاخی میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔

علی فیاض نے خبردار کیا کہ مزید رعایتیں دینے سے حکومت کی پوزیشن مزید کمزور اور اندرونی سطح پر عوام اور حکومت کے تعلقات مزید پیچیدہ ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک صہیونی حکومت جنگ بندی کی تمام شقوں پر مکمل عمل نہیں کرتی، لبنان کو بھی اس معاہدے پر عمل درآمد معطل کرنے پر غور کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ لبنانی علاقوں سے صہیونی فوج کا مکمل انخلا، جارحیت کا خاتمہ، لبنانی قیدیوں کی رہائی اور سرحدی دیہات میں شہریوں کی واپسی وہ اقدامات ہیں جو اس بحران کے خاتمے کے لیے ضروری ہیں۔

News ID 1938098

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha