مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی جریدے فارن پالیسی نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ معزول ایرانی شاہ کا بیٹا رضا پہلوی نہ ایران کے اندر کسی مضبوط عوامی بنیاد کا حامل ہے اور نہ ہی بیرون ملک مؤثر سیاسی حمایت رکھتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس کے غیر حقیقی اور نمائشی وعدوں نے حالیہ بدامنیوں کے دوران بعض افراد کی جانیں بھی لے لیں۔
فارن پالیسی کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران رہبر انقلاب آیت اللہ العظمی خامنہای کی قیادت میں اب بھی منظم اور متحد ہے اور حکومت کے پاس عوامی حمایت کا قابل ذکر دائرہ موجود ہے۔ اس کے برعکس، اپوزیشن شدید انتشار کا شکار ہے اور یہی صورتحال تہران کے لیے ایک بڑا فائدہ بن چکی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رضا پہلوی نے خود کو اپوزیشن کا رہنما ثابت کرنے کی کوشش کی، مگر نہ اس کے پاس عوامی اکثریت کی حمایت ہے اور نہ ہی کوئی مؤثر تنظیمی ڈھانچہ۔ اس کی سرگرمیاں زیادہ تر میڈیا اور سوشل نیٹ ورکس تک محدود رہیں۔
فارن پالیسی کے مطابق، احتجاجات کے دوران اس کے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور وعدوں نے عوام میں شدید بداعتمادی پیدا کی، خصوصاً اس کا یہ کہنا کہ یہ جنگ ہے اور جنگ میں ہلاکتیں ہوتی ہیں، بہت سے ایرانیوں کے لیے ناقابل قبول تھا۔
رپورٹ کے نتیجے میں کہا گیا ہے کہ رضا پہلوی نہ انقلاب کی قیادت کی اہلیت رکھتا ہے اور نہ ہی ایرانی عوام کی اکثریت کا نمائندہ ہے، جبکہ موجودہ حالات میں ایران میں کوئی ایسا رہنما موجود نہیں جو 1979 جیسے وسیع انقلابی اتحاد کی تشکیل کر سکے۔
آپ کا تبصرہ