مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شام کے ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ منگل کی سہ پہر حلب شہر کے مشرقی علاقوں میں امریکی حمایت یافتہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز اور ایچ ٹی ایس کی قیادت میں قائم انتظامیہ کی فورسز کے درمیان شدید لڑائی ایک بار پھر شروع ہو گئی ہے۔
ایس ڈی ایف نے کہا ہے کہ ایچ ٹی ایس انتظامیہ کی فورسز نے شیخ مقصود کے علاقے پر گولہ باری کا آغاز کیا، جس کے جواب میں کرد قیادت والی ایس ڈی ایف فورسز نے جوابی کارروائی کی۔
شام کے سرکاری خبر چینل الاخباریہ کے نمائندے نے رپورٹ کیا کہ حلب کے قسطلّو علاقے کے مضافات میں ایس ڈی ایف کے حملوں کے دوران جولانی کی فورسز کے ایک اہلکار ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
دوسری جانب الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے ایک فوجی ذریعے نے بتایا کہ حلب میں ایس ڈی ایف کے ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک اور چار دیگر زخمی ہو گئے۔
ایس ڈی ایف فورسز نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ دمشق سے وابستہ گروہوں نے دیر حافر کے علاقے کو نشانہ بنایا، جہاں بڑی تعداد میں شہری موجود تھے۔
ایس ڈی ایف نے اپنے بیان میں کہا کہ اس خطرناک کشیدگی کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری دمشق حکومت سے وابستہ گروہوں پر عائد ہوتی ہے۔ ہماری فورسز کو عوام کے دفاع اور اپنے علاقے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے جوابی کارروائی کا پورا حق حاصل ہے۔
ایس ڈی ایف اور خود ساختہ صدر ابو محمد الجولانی کی قیادت میں قائم ایچ ٹی ایس انتظامیہ کی فورسز کے درمیان جھڑپوں کا دوبارہ آغاز اس وقت ہوا جب دمشق میں ایس ڈی ایف کمانڈر مظلوم عبدی اور حکومتی حکام کے درمیان ہونے والی ملاقات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی۔
آج کی جھڑپیں حلب میں دونوں فریقین کے درمیان 22 دسمبر 2025 کو ہونے والی شدید لڑائی کے بعد پہلی بڑی جھڑپ قرار دی جا رہی ہیں۔
آپ کا تبصرہ