مہر خبررساں ایجنسی؛ فاطمہ زہرا صرامی: مغربی تہذیب کی چمک دمک دراصل ایک ایسے نظام کا چہرہ ہے جو دوسروں کی تذلیل، محکومی اور کمزوری پر قائم ہے۔
اٹھارہویں صدی کے آخر میں جب برطانیہ میں صنعتی انقلاب نے جنم لیا، تو یورپ اور امریکہ نے اس ترقی کو عالمی بالادستی کے لیے استعمال کیا۔ دیگر قوموں نے ترقی کے نام پر انہی کو اپنا نمونہ بنایا، مگر جنگِ عظیم اول اور دوم نے ثابت کیا کہ مغربی “ترقی” کا مطلب انسانی بہبود نہیں بلکہ تباہی ہے۔ امریکہ کی جانب سے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی بم گرانا اسی سوچ کی انتہا تھی۔
آج کی دنیا میں ٹیکنالوجی اور میڈیا کا مرکز کہلانے والی سیلیکون ویلی بھی اسی استعماری نظام کا حصہ ہے۔ مغربی کمپنیاں، خصوصاً گوگل، اپنی مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو انسانی خدمت نہیں بلکہ فلسطینیوں کی آواز دبانے اور اسرائیلی جارحیت کو چھپانے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔
یہی مغربی دوہرا معیار ہے کہ خود ایٹمی طاقت بنے رہنا چاہتا ہے، مگر دوسروں پر پابندیاں لگاتا ہے۔ اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرتا ہے اور ساتھ ہی امن پسندی کا دعویٰ کرتا ہے۔
ایسے حالات میں دوسرے ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ مغربی تسلط سے آزاد ہو کر اپنے ثقافتی و فکری اصولوں پر مبنی ترقی کا ماڈل تشکیل دیں۔ آزادی اور خودمختاری اب کوئی نظریہ نہیں، بقا کی ضمانت ہے۔
اسی لیے پسماندہ و دبائے گئے ممالک کو باہمی اتحاد کے ذریعے عالمی استکبار کے مقابلے کے لیے مؤثر اور متحدہ پلیٹ فارم تشکیل دینے ہوں گے۔ غیر وابستہ تحریک اور اسلامی تعاون تنظیم جیسے اداروں کو اب محض بیان بازی سے آگے بڑھ کر حقیقی اقدام کی راہ اختیار کرنی ہوگی۔
آپ کا تبصرہ