ایران، روس تعلقات اسرائیل کے لیے سنگین مسئلہ ہیں، صہیونی وزیر اعظم لیپڈ

غاصب صہیونی حکومت کے وزیر اعظم نے تہران ماسکو کے اسٹریٹجک تعلقات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ روس اور ایران کے تعلقات اسرائیل کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی المیادین کے حوالے کے ساتھ رپورٹ کے مطابق غاصب صہیونی حکومت کے وزیراعظم یائر لیپڈ نے ایک بار پھر روس اور ایران کے درمیان عسکری تعاون سے غاصب حکومت کے خوف پر تاکید کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ کیف کو ہتھیار فروخت کرنے سے انکار کے باوجود تل ابیب یوکرین کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔

رپورٹ کے مطابق صہیونی وزیر اعظم لیپڈ ان خیالات کا اظہار جمعرات کو یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیٹرو کولیبا کے ساتھ فون پر بات چیت کے دوران کیا۔

صہیونی ذرائع ابلاغ کے مطابق لیپڈ نے گفتگو کے دوران کولیبا کو بتایا کہ اسرائیل کو روس اور ایران کے درمیان عسکری تعاون پر گہری تشویش ہے اور اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل روس کے خلاف جنگ میں یوکرائنی عوام کے ساتھ ہے۔

اسی تناظر میں لیپڈ نے کہا کہ روس اور ایران کے تعلقات اسرائیل اور دنیا کے لیے ایک سنگین مسئلہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ لیپڈ اور کولبا کے درمیان یہ بات چیت چند روز قبل کیف کی جانب سے تل ابیب کو بھیجے گئے اس خط کے بعد ہوئی جس میں اس نے ایرانی ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے مبینہ روسی حملوں کا مقابلہ کرنے میں مدد کے لیے اسرائیلی فضائی دفاعی نظام حاصل کرنے کی باضابطہ درخواست کی تھی۔

صہیونی حکومت کے وزیر اعظم کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب انہوں نے اس سے قبل RTVI چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم فطری طور پر سمجھتے ہیں کہ روس اور ایران کے تعلقات نہ صرف اسرائیل کے لیے بلکہ یوکرین، یورپ اور پوری دنیا کے لیے بھی ایک سنگین مسئلہ ہیں۔

واضح رہے کہ ایک طرف سے صہیونی حکومت کے وزیر جنگ بینی گانٹز نے چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ تل ابیب کیف کو ہتھیار فروخت نہیں کرے گا اور وہ یوکرین کی جنگ میں حصہ لینے کی کوئی خواہش نہیں رکھتا جبکہ دوسری جانب عبرانی میڈیا نے بتایا ہے کہ ایک سیکورٹی ساز و سامان بنانے والی ایک اسرائیلی کمپنی نے یوکرین کی فوج کو لڑاکا ڈرون کو روکنے کے قابل اینٹی ڈرون سسٹم فروخت کیے ہیں۔

News Code 1912742

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha