معاہدہ ممکن ہے اگر امریکہ حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرے، امیر عبداللہیان

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو تکنیکی طریقے سے اور سیاسی الزام تراشیوں سے ہٹ کر اپنے کام کو آگے بڑھانا چاہیے، اگر امریکی فریق جوہری مذاکرات کے حوالے سے حقیقت پسندانہ رویہ اپنائے تو معاہدہ ممکن ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے اپنے نائجیریا کے ہم منصب جیفری اونیاما کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے ایران اور نائجیریا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی تازہ ترین صورتحال اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

امیر عبداللہیان نے دونوں ملکوں کے تعلقات کی نصف صدی پر محیط تاریخ کو ایک "عظیم اور مضبوط اثاثہ" سمجھا جسے ان کے "مشترکہ مفادات" کی بنیاد پر اپنے سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی تعلقات کی توسیع کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے جوہری مذاکرات کی تازہ ترین صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے بات چیت جاری رکھنے اور ایک مضبوط اور مستحکم سمجھوتے تک پہنچنے کے لئے ایران کے عزم پر زور دیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) اسلامی جمہوریہ ایران کے بارے میں اپنی تکنیکی ذمہ داری کو انجام دے گی اور سیاسی الزام تراشی سے گریز کرے گی جبکہ اگر امریکی فریق مذاکرات کے حوالے سے حقیقت پسندانہ رویہ اپنائے تو سمجھوتہ ممکن ہے۔

آخر میں انہوں نے اپنے نائجیرین ہم منصب کو تہران کے دورے کی دعوت دی۔

نائیجیریا کے وزیر خارجہ نے بھی نائجیریا کے وفد کے حالیہ دورہ تہران کو نتیجہ خیز قرار دیا اور دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کی تاریخ اور مختلف چیلنجوں میں دونوں قوموں کے درمیان یکجہتی کی طرف اشارہ کیا جو دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے موزوں بنیاد کے طور پر موجود ہیں۔

اونیاما نے جوہری مذاکرات کے دوران ایران کی نیک نیتی پر زور دیا اور امریکہ کے جوہری معاہدے سے نکلنے کا ذکر کرتے ہوئے اس کی معاہدے میں واپسی اور مسائل کے حل کی امید ظاہر کی۔

News Code 1912345

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha