چین نے مقبوضہ کشمیر کی دو حصوں میں تقسیم کو غیر قانونی قرار دے دیا

بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر ریاست کو دو حصوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کے باضابطہ عمل پر چین کا ردعمل سامنے آگیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایکس پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر ریاست کو دو حصوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم  کے باضابطہ عمل پر چین کا ردعمل سامنے آگیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان جینگ شوانگ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت نے آج باضابطہ طور پر نام نہاد جموں و کشمیر اور لداخ یونین کے علاقوں کا اعلان کیا جس میں چین کے کچھ علاقے بھی شامل ہیں جنہیں بھارت نے اپنے دائرہ اختیار میں شامل کیا ہے۔

جینگ شوانگ نے کہا کہ چین ان اقدامات  کی بھرپور مخالفت کرتا ہے جس میں بھارت نے یک طرفہ طور پر اپنے مقامی قوانین اور انتظامی تقسیم کو تبدیل کر کے چین کی خود مختاری کو چیلنج کیا ہے جس سے چین کی سالمیت متاثر ہوگی۔

 واضح رہے کہ مودی سرکارنے  5 اگست کے فیصلے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے دوسرے مرحلے کے تحت آج سے جموں و کشمیر اور لداخ کو دو حصوں میں تقسیم کرکے بھارتی قوانین نافذ کردیئے ہیں۔ نئے قوانین کے تحت دیگر ریاستوں کے ہندو شہریوں کو مقبوضہ  کشمیر میں جائیداد خریدنے اور مستقل رہائش کا حق حاصل ہوگیا ہے۔

News Code 1895031

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 9 =