حضرت عباس علیہ السلام ایمان ،شجاعت اور وفا کی بلندیوں پر فائز

حضرت عباس علیہ السلام جو "ابوالفضل" اور "علمدار کربلا" کے نام سے مشہور ہیں حضرت علی علیہ السلام اور حضرت ام البنین کے فرزند ہیں۔ حضرت عباس (ع) وفا ، ادب، شجاعت اور سخاوت کا مظہر ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے تاریخ اسلام کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حضرت عباس علیہ السلام ایمان ،شجاعت اور وفا کی بلندیوں پر فائز ہیں وہ فضل و کمال میں ، قوت اور جلالت میں اپنی مثال آپ ہیں ۔وہ اخلاص ،استحکام ،ثابت قدمی اور استقلال میں نمونہ عمل ہیں۔ حضرت عباس (ع) وفا ، ادب، شجاعت اور سخاوت کا مظہر ہیں۔وہ فضل و کمال میں ، قوت اور جلالت میں اپنی مثال آپ ہیں ۔وہ اخلاص ،استحکام ،ثابت قدمی اور استقلال میں نمونہ عمل ہیں۔ حضرت عباس 4 شعبان العمظم سن 26 ہجری قمری میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔حضرت عباس،شیعوں  کے نزدیک،آئمہ (ع) کی اولاد میں اعلی ترین مقام و مرتبت رکھتے ہیں اور اسی اعلی مرتبت کی بنا پرمحرم کا نواں دن آپ سے مخصوص ہے اور اس روز حضرت عباس(ع) کی عزاداری کی جاتی ہے۔ کربلا کے میدان میں حضرت عباس علیہ السلام نے جس عزم وحوصلہ ، شجاعت وبہادری اور ثابت قد می کا مظاہرہ کیا اس کو بیان کرنے کا مکمل حق ادا کرنا نہ تو کسی زبان کے لئے ممکن ہے اور نہ ہی کسی قلم میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ اسے لکھ سکے۔ حضرت عباس علیہ السلام عظیم ترین صفات اور فضائل کا مظہر تھے شرافت ، شہامت ، وفا ، ایثار اور دلیری کا مجسم نمونہ تھے۔ واقعہ کربلا میں حضرت عباس علیہ السلام نے مشکل ترین اور مصائب سے بھرے لمحات میں اپنے آقاومولا امام حسین علیہ السلام پر اپنی جان قربان کی اور مکمل وفا داری کا مظاہرہ کیا اور مصائب کے پہاڑوں کو اپنے اوپر ٹوٹتے ہوئے دیکھا لیکن ان کے عزم وحوصلہ، ثابت قدمی اور وفا میں ذرا برابر بھی فرق نہ پڑا اور یہ ایک یقینی بات ہے کہ جن مصائب کا سامنا جناب عباس علیہ السلام نے کیا ان پر صبر کرنا اور ثابت قدم رہنا فقط اس کے لئے ہی ممکن ہے کہ جو خدا کا مقرب ترین بندہ ہو ۔

News Code 1893606

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 9 =