بھارتی عدالت نےراجیوگاندھی کے قتل کی ملزمہ کو 30 روز کے پے رول پرآزاد کردیا

بھارتی عدالت نے بھارت کے سابق وزیراعظم راجیوگاندھی کے قتل کی منزمہ کو 30 روز کے پے رول پر رہا کردیا۔

مہر خبررسان ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارتی عدالت نے بھارت کے سابق وزیراعظم راجیوگاندھی کے قتل کی منزمہ کو 30 روز کے پے رول پر رہا کردیا۔ اطلاعات کے مطابق  تقریباً تین دہائی قبل 1991 میں بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو میں خود کش حملے میں راجیوگاندھی سمیت دیگر 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ذرائع کے مطابق حملہ آوروں کا تعلق سری لنکا میں قائم علیحدگی پسند تحریک لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلم (ایل ٹی ٹی ای) سے تھا۔ خود کش حملے کے فوراً بعد ہی بھارتی خاتون نلنی سری ہران کو ان کے شوہر سمیت 25 دیگر ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ اس کے بعد عدالت میں نلنی سری ہران پر خود کش حملے کی سازش کرنے اور نوعمر لڑکے کو خود کش حملے کے لیے تیار کرنے کا جرم ثابت ہوگیا تھا۔ جس کے بعد راجیو گاندھی کی بیوہ سونیا گاندھی کی درخواست پر نلنی سری ہران کی سزائے موت عمر قید میں بدل دی گئی تھی۔ نلنی سری ہران نے اپنی بیٹی کی شادی کے لیے عدالت میں 6 ماہ کے پے رول پر رہائی کی درخواست دی تھی تاہم چنائی عدالت نے انہیں ایک ماہ کے پے رول پر رہائی دے دی۔ خیال رہے کہ راجیو گاندھی پر حملے کے بعد جب انہیں گرفتار کیا گیا تو وہ حاملہ تھیں اور انہوں نے جیل میں ہی بچی کو جنم دیا تھا۔ نلنی سری ہران کی بیٹی برطانوی شہریت رکھتی ہیں اور وہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں۔ یاد رہے کہ راجیو گاندھی 1991 میں وسط مدتی انتخابات (مڈ ٹرم الیکشن) کے لیے مہم چلا رہے تھے اور سری لنکا میں بھارتی فوج بھیجنے کے بیان پر علیحدگی پسند تحریک نے ان پر حملہ کیا۔ مقدمے سے متعلق 18 فروری 2014 کو بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ سامنے آیا جس میں راجیو گاندھی کے تین قاتلوں کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا۔

News Code 1891945

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 14 =