ایران نے ایس 400 خریدنے کی کوئی درخواست نہیں دی/ انسٹیکس پر کوئی امید نہیں

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے انسٹیکس سسٹم پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ سسٹم مؤثر ہوتا تو اب تک کارآمد اور مؤثر ثابت ہوسکتا تھا۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے جرمنی کے وفد کے ہمراہ انسٹیکس کے سربراہ کی تہران آمد اور انسٹیکس سسٹم پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ سسٹم مفید ہوتا تو اب تک  مفید، کارآمد اور مؤثر ثابت ہوسکتا تھا۔ عباس موسوی نے کہا کہ مشترکہ ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے خارج ہونے کے بعد توقع تھی کہ یورپی ممالک مشترکہ ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں اپنے وعدوں پر عمل کریں گے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ ایران نے یورپی ممالک کومشترکہ ایٹمی معاہدے پر عمل کرنے کا جو موقع دیا تھا اس پر ابھی تک کوئی پیشرفت حاصل نہیں ہوئی اور اگر انھوں نے مقررہ مہلت میں کو‏ئی عملی اقدام نہ کیا تو اس صورت میں ایران دوسرا قدم اٹھائے گا۔ عباس موسوی نے کہا کہ مشترکہ ایٹمی معاہدہ عملی اقدام کا محور ہے اگر فریق مقابل نے اس پر عمل نہ کیا تو ایران بھی جوابی کارروائی کرنے پر مجبور ہوجائےگا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ایران نے روس سے ایس 400 کی خریداری کے سلسلے میں کوئي درخواست نہیں دی ہے۔ مشترکہ ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں روس کے مؤقف کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ عباس موسوی نے کہا کہ ایران کے نزدیک امریکی صدر کی لفاظی کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔

News Code 1891245

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 1 =